المحراب — Page 85
کی رشتہ داری کراچی میں مستقل مقیم مہرات میں سے ہی کسی کو دی جا سے ہے مجھے ان کے کہے ہوئے الفاظ اور وہ نظارہ ہو آج بھی آنکھوں کے ہے؟ بعد ازاں خاکسارہ کا نام پیش ہو کہ منظور ہوا۔یہ بات قابل امنے ہے کبھی نہیں بھول سکتے۔فرمایا مگر وعدہ کرو کہ اب لجنہ آئندہ ذکر ہے کہ جتنا عرصہ استانی صاحبہ کراچی میں رونق افروز رہیں۔نہ کسی کمرے کا تقاضا نہیں کرے گی ؟ جوابا خاکسارہ نے عرض کی " آپ صرف ہماری سر مستی کرتی رہیں۔بلکہ ہم بھولی بھٹکی احمدی متورات کی بھی کمال کرتے ہیں بھائی جان جو یہ شرط لگاتے ہیں۔میرا تو دل چاہتا از سرنو تربیت اور تنظیم میں بھی کوشاں رہیں۔خاکسارہ کو ان کے ساتھ ہے لجنہ کراچی اتنی ترقی کرے کہ ایک دن یہ تقاضا ہو کہ لجنہ کراچی کی ایک معادنہ کی حیثیت سے کو کچھ بھی خدمت دین کا موقع ملا وہ ایک ضروریات کے مد نظر جماعت احمدیہ ہال کو مکمل طور پر لجنہ کے حوالہ کر کے خود کوئی اور مقام حاصل کر لے ہی میرے منہ سے نکلے ہوئے یہ غیر مترقیہ نعمت بنا۔احمدہ بیگم صاحبہ چودھری بشیر احمد صاحب کے زمانہ صدارت محترمہ مذکورہ کی پر خلوص نگرانی کا نتیجہ کا میاب بجز کہلانے کی بے ساختہ الفاظ ان کی بے حد خوشنودی کا باعث بنے۔الحمد الله صورت میں اور میں پر بارہ با مرکز سے تعریفی ریمارکس ملتے رہے۔محترمہ بیگم صاحبہ کے ساتھ سفر کر تے ہوئے ہم کہیں اور نکل لجنہ اماءاللہ کراچی کو محض اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم سے ایسی آئے ہیں۔لہذا اس زمانہ کی طرف مراجعت کرتے ہیں۔مبارک بستیوں کا قرب نصیب ہوا جو خلوص دل سے بمعہ کراچی کی کامیابی کی خواہاں اور کوشاں رہیا۔میں صغری بیگم قدسیہ صاحبہ سیکریٹری اور سیکریٹری مال مقر کی گئی تھیں۔سیده محترمه صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحزاد برزان و وحید وہ لجنہ کا سارا یہ ایک امڈ اور حساب کتاب رکھتیں۔جب لجنہ اماء اللہ کا صاحب نے اپنے چند ماہ کے عامر منی قیام میں لجنہ کراچی کی خاصی تربیت دوسرا اجلاس ہوا تو حاضری ۵ نمبرات پر مشتمل تھی۔اس وقت یہی حلقہ فرمائی۔ماہ رمضان المبارک میں قرآن کریم کا درس نہ ہونا نہ میرے عین جاند مرکزی حلقہ تھا اور سولجر بازار کے نام سے موسوم تھا۔(بعد میں یہ حلقہ پر شروع کیا جس کی برکت سے آج تک لجنہ کہ اچی کے زیر انتظام پی سلسلہ جیکب لائنز کہلانے لگا ، لجہ کراچی کا دوسرا حلقہ سعید منزل کے قائم کیا گیا۔اس رامسوامی کا علاقہ بھی شامل تھا اس کی صدر محترمہ خضر سلطانہ جاری و ساری ہے کیا ان دونوں پر اجلاس میں اگلے اجلاس کا پروگرام بنا لیا جاتا تھا صاحبہ دہلوی منتخب ہوئیں۔جبکہ سیکریٹری جمیلہ عرفانی صاحب نہیں محترمہ اور تمام چندہ جات بھی دوران اجلاس بھی جمع کئے جاتے تھے۔نماز جمعہ خضر سلطانہ نے کہا جوری شاہ تک یہاں صدارت کے فرائض چونکہ احمدیہ ہال کراچی کی تعمیل کے بعد یہیں ہونے لگی تھی اور ستورات انجام دیئے اس کے بعد محترمہ بیگم احمد جان صاحبہ صدر منتخب ہوئیں۔کو یہاں آنے میں سہولت رہتی تھی اس لئے دفتر لجنہ کی ضرورت محسوس ہوتے جمیلہ عرفانی نائب صدر سکریٹری صفیہ اللہ دار صاحبہ اور محترمہ کلثوم رحمانی ہی اس جگہ کو موزوں خیال کیا گیا۔اس موقع پر ایک الماری دفتر بجنہ صاحبہ سکریٹری مال سعیدہ بیگم صاحبہ۔دیگر قابل ذکر اور سعد کارکنات کے لیئے سید شرافت حسین صاحب مالک نیو حمدیہ فرینچر مارٹ نے لجنہ میں فضیلت بیگم صاحبہ معصومہ بیگم صاحبہ، سیدہ صالحہ بانو صاحبہ اور کو پیش کی ، جو لجہ کراچی کا چھوٹا سا دفتر بنی۔(اس میں متعلقہ کا غذات ممتاز بیگم صاحبہ شامل ہیں۔ہر فروری ۱۹۴۷ء کو ایک شاندار جلسہ فائلیں نیز کھانہ جات وغیرہ رکھے گئے) احمدیہ ہال کی تکمیل کے بعد مصلح الموعود منعقد کیا گیا۔جس کی صدارت محترمہ استانی میمونہ صوفیہ محترم امیر صاحب نے لجن گیری کا ایک کمرہ از راہ شفقت لجنہ کو مرحمت صاحبہ نے فرمائی۔فرما دیا۔ضرورت کا تمام سامان گریسی میرا قلم دوات وغیرہ سب احمدی ر مارچ ۹ہ کو حضور خلیفہ اسیح الثانی کراچی میں رونق افروز بھائی بہنوں کا عطیہ ہیں۔اب یہ ننھا سا دفتر جمعہ کے علاوہ ہفتہ میں ہوئے اور ۱۸ مارچ کو الہ بجے دن تھیں سوفیکل ہال میں کراچی لجند دو دن چائے پانچ گھنٹوں کے لئے کھولا جانے لگا۔چونکہ کام کافی پھیل سے تاریخی خطاب فرمایا۔اس دن ہال میں حضور کی تقریر سننے کے لئے چکا تھا اس لئے بعد میں مزید بیجگہ کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔امیر جماعت بعض معزز مہمان خواتین بھی تشریف لائیں مشکل لیڈی عبداللہ ہارون احمد یہ جناب چودھری عبداللہ خان صاحب سے دفتر لجنہ کہ اچھی سے مع اپنی بہو بیٹیوں کے۔محترمہ بیگم توزین فریدی صاحبہ محترمہ بیگم شبان ملحقہ کمرے کا تقاضا کیا گیا۔رشتہ داری کے لحاظ سے بے تکلفی بھی تھی صاحبہ ممبر جی اے خان اور سر آغا ہلالی صاحبہ حضور نے اپنے ۹۲