المحراب — Page 84
تاریخ لجنہ اماءاللہ کراچی مرتبه : نگار علیم کراچی میں جماعت احمدیہ کا پہلا مرکز ۱۹۳۷ ء میں احمدخان بلڈنگ ماہ رمضان المبارک کا اختتام تھا۔خبروں میں یہ سن کر کہ ہمارا پیارا واقع سولجر بازار میں قائم ہوا۔حضرت خلیفہ اسی الثانی کراچی تشریف مرکه تاریان ہندوستان میں رہ گیا ہے۔میں تقریبا نیم بیہوش ہوگئی۔لاتے تو اپنے دو اڑھائی سو احباب کے ساتھ یہیں مقیم ہوتے۔اس وقت کی دلی کیفیت کا اظہار الفاظ میں ناممکن ہے لجنہ کی باقاعدہ تنظیم نہ تھی۔خواتین خانہ بڑے شوق اور اہتمام سے معزز اگلے دن عید کا چاند نظر آیا اپنے مہربان میزبان کے ذریعہ پتہ کیا مہمانوں کے لئے خود کھانا تیار کرتیں اور دیگر خدمات سر انجام دیتے ہیں کہ عید کی نمازہ کہاں ہوگی۔غرضیکہ ہم لوگ غمزدہ دلوں کے ساتھ اللہ تعالی فخر محسوس کر نہیں۔اس نہ مانہ ہیں یہ سعادت محترمہ امینہ کی اہلیہ ایوب خان کی رضا کی خاطر فریضہ نماز عید الفطر کی ادائیگی کی غرض سے زولوجیکل صاموب المحترمہ حمیدہ فی اہلیہ حاجی خان صاحب اہلیہ صاحب عبداله زاق تمان صاحب، ان کی بیٹیوں اور دیگر اہل خانہ نے حاصل کی۔لجنہ اماءاللہ کراچی با قاعدہ طور پر ایک تنظیم کی حثیت سے ۱۹۳۸ء میں قائم ہوئی۔۱۹۳۸ سے تقسیم پاک و ہند تک بیشتر ریکارڈ تلف ہو چکا ہے اس لئے کوئی تفصیلی معلومات تو حاصل نہ ہو سکیں۔تاہم اتنا معلوم ہو سکا ہے کہ محترمہ امتہ اللہ بیگم صاحبہ اہلیہ محموت مبین صاحب نے یہاں لجنہ اماء اللہ کی شاخ قائم کی تھی۔گویا لجنہ اماءاللہ ضلع کراچی کی گارڈن پہنچے۔نماز کے بعد جماعت احمدیہ کے زن و مرد بچے بوڑھے متفرق مقامات سے آئے ہوئے عجیب جذبات لئے ایک دوسرے کی تلاش میں سرگرداں و پریشان نظر آئے۔ہم دہلی سے آئی ہوئی مستورات بھی انہیں کوششوں میں لگی ہوئی تھیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری خواہش پر عزیزہ ناهره نسرین بنت شیخ عبد الحق صاحب نے مجھے لجنہ کراچی کی صدر محترمہ امتہ التصیر صاحبہ اہلیہ چودھری احمد جان شاب کے پاس لے جاکر تعارف کرایا۔اس کے بعد لجنہ کراچی کے چندا جلاسات تاریخ ۱۹۳۸ تہ سے شروع ہوتی ہے۔اس زمانہ میں لجنہ کے اجلاسات میں جو صدر لجنہ کے گھر پر ہی منعقد ہوتے تھے شرکت نصیب ہوئی۔پندرہ روزہ ہوتے تھے۔نمبرات کی تعداد پیکھیں اور تیس کے درمیان پارٹیشن کی وجہ سے مختلف مقامات سے آئے ہوئے احمد ہی گھرانوں تھی۔عہدیداران میں محترمہ امتہ النصیر اہلیہ صاحبہ چودھری احم دجان کی کثرت کی وجہ سے بند کراچی کی نمبرات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔صاحب۔محترمہ عائشہ بیگم عیسی خان صاحب اور محترمہ بلقیس خانم بنت صدر الجہ کراچی نے اپنی بعض گھر یلو مصروفیات اور معذور بچوں کی محدود است حاجی عبدالکریم صاحب شامل تھیں۔کے پیش نظر مزید کام جاری رکھنے سے معذوری کا اظہار کیا اور خواہش قیام پاکستان کے وقت محترمہ امتہ النصیر صاحبہ اہلیہ محترم بیجو دھری احمد جان صاحب لجنہ کراچی کی صدر تھیں۔ظاہر کی کہ لجنہ کراچی کی میرات میں اب اضافہ ہو چکا ہے اس لئے از سر نو تنظیم کی جائے اور نئی عہدیداران مقرر کی جائیں۔کثرت رائے 19 ء میں نوواردان کراچی نے تنظیم میں کس طرح شمولیت سے یہ طے پایا کہ انتخاب کی غرض سے ایک جلسہ میرے غریب خانہ کی اور کارواں کی طرح آگے بڑھایا یہ دلچسپ، عہد آفرین اورایمان فروز یعنی نمبر با بندر روڈ ایکسٹینشن پر منعقد کیا جائے۔چنانچہ استمبر علماء حالات محترمہ احمدہ بیگم صاحبہ اہلیہ چودھری بشیر احمد صاحب نے کر یہ جلسہ وقت مقررہ پر محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی صدارت حضرت سیدہ ام منین صاحبہ کے نام ایک مکتوب میں تحریہ فرماتے ہیں۔میں منعقد ہوا۔احمدی مستورات کی اکثریت محترمہ انسانی صاحبہ کو پارٹیشن کے وقت غالباً پندرہ اگست ۱۹۴۶ یو کی شام کو صد البتہ کراچی کے فرائض سپرد کرنے کے حق میں تھی جس پر محترمہ استانی ہم لوگ بذریعہ ریل گاڑی دہلی سے روانہ ہو کر سترہ اگست کو کراچی پہنچے۔صاحبہ نے اپنی کراچی میں عارضی رہائش کے مد نظر فرمایا کہ صدارت ۹۲