المحراب — Page 78
خلیفہ ایسی الثنی کی دامادی کا شرف بھی حاصل ہوا۔ذلك فضل اللہ سے اپنا رہائشی مکان اور ساری مملوکہ زمین وقف کردی۔گویا جان مال اور وقت سب کچھ خدا تعالے کی رضا کے لئے قربان کر دیا۔خدا تعالی آپ کو اپنے يونيه من يشاء آپ کی اگلی نسل بھی خادم دین ہے۔سیدہ آپا نصیرہ بیگم صاحبہ پیالہ کی چادر میں ڈھانپ لے۔آئیے۔کے دونوں صاحبزاد سے مرزا غلام احمد صاحب، جناب مرزدا خورشید احمد صاحب محترمہ آپ سیدو شری بیگم صاحبہ کے صاحبزادے مکرم حسین احمد پاشا صاحب واقف زندگی ہیں اور دین کی خدمت پر مامور ہیں۔محترمہ سیدہ کل تنوم با نو صاحبہ مدعا ہے خدا تعالے آئندہ بھی آپ کی نسلوں کو اپنے فضلوں سے نوانہ نار ہے اور آپ کو اپنے قرب خاص میں جگر دے۔آمین اللهم آمین۔بریلی کے سید عزیز الرحمن صاحب کی دوسری بیٹی تھیں۔پہلی بیٹی سیدہ عائشہ بانو صاحبہ حضرت عبد الرحیم صاحب نیر کی اہلیہ تھیں۔سیدہ کا ثوم بانو صاحبہ کی شادی حضرت قاضی مجد عبد اللہ صاحب بھٹی سے ہوئی اس رشتہ کی محترمہ مریم بیگم صاحبہ تحریک کرتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود نے تحریر فرمایا " قاضی صاحب ایک صالح نوجوان ہیں " قاضی صاحب انگلستان میں داعی الی اللہ ہے۔سیده معلقوم بانو صاحبہ دیندار مخلص خاتون تھیں۔قدمت دین کا یہ عالم تھا کہ اهلي فطار وش على حما مرت مع موجد کی عدت میں امر ہوکر عرض کی کہ بے اولاد ہونے کی وجہ سے ضروریات محدود ہیں۔اس لئے میرے وظیفہ میں کمی کر کے یہی آپ حضرت سیے پاک کے بہت پرانے رفیق جناب منشی شادی زمان رقم اشاعت دین کے مصرف میں لے آئیں۔آپ نے فرمایا جزات اللہ صاحب کی صاحبزادی تھیں اور معزز عالم دین حیساب حافظ روشن علی صاحب اور وظیفہ بھی بحال رکھا۔بیت الفضل لندن کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی کی اہلیہ تھیں۔لجنہ کے قیام کے بعد آپ مختلف وقتوں میں عہدوں پر دین کی خدمت تو ایک انگوٹی کے سوا سارا زیور چندہ میں دے دیا۔بے اولادی کے دیکھے کرتی ہیں۔جلسہ سالانہ پر تقاریر کر ہیں۔الفضل۔مصباح - احمدی فانون کے ساتھ قاضی صاحب کی دوسری شادی کا فطری غم بھی صبر سے برداشت تادیب النساء میں آپ کے مضامین شائع ہوا کرتے۔الفضل کے خاتم النبین کیا۔اولاد کے لئے مرحا کی درد انگیز درخواست کرتیں۔حضرت مصلح موعود نمبروں میں آپ کی قلمی کاوشیں جنگہ یا تیں۔آپ بہت ہی بزرگ اور بلند پایہ نے خاص طور پہ دعا فرمائی۔قاضی صاحب کی دوسری شادی کے ایک سال عالم دین خاتون تھیں۔آپ سے ہزاروں بچوں اور عور توں نے قرآن کریم بعد نہیں سال کی دعاؤں کا ثمر واحد اولا د کلتوم بانو کے بطن سے ایک ناظرہ اور با ترجمہ پڑھنے کی سعادت حاصل کی ، حضرت مصلح موعود (اللہ آپ بیٹی امتہ الوہاب پیدا ہوئیں۔کلثوم بانو صاحبہ نے سیدہ ام ناصر صاحبہ سے سے راضی ہو) درس القرآن دیا کرتے تھے۔اس کا تمام انتظام آپ کے قرآن پاک با ترجمہ پڑھا۔علمی مشاغل سے دلچسپی تھی۔حضرت سیدہ سارہ میگیم ذمہ ہونا تھا۔اس طرح خدا تعالے نے آپ کو بہت لمبا عرصہ خدمت دین کی صاحبہ، حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ اور حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ سے توفیق عطا فرمائی۔۱۲ ۱۳ جولائی کی درمیانی رات شاء میں وفات پائی ہم عمری اور ہم خیالی کی وجہ سے بے تکلفانہ دوستی کے تعلقات تھے۔اس وقت آپ کی عمر ۸۶ سال تھی۔دعا ہے خدا تعالے آپ کو اپنی رضا اور جلس الانہ سر ذوق و شوق سے ڈیوٹی ادا کرتیں۔آپ کو بچوں کو بہلانے محبت کی محنت عطا فرمائے۔آمین۔اور خاموش رکھنے کا کام دیا جاتا۔تہجد گزار، رفیقہ میسیج اور موجبہ تھیں۔آپ نے نہ صرف یہ کہ جسمانی خدمات ہی میں حصہ لیا۔بلکہ ملی قربانیوں ۱۹۷۲ ء میں وفات پا کر ربوہ میں مدفون ہیں۔میں بھی آپ صنب اڈل میں نظر آتی ہیں۔حضرت مصلح موجو د ر خدا آپ سے راضی ہو) کی طرف سے جو سختہ ہیک ہوتی اس میں بساط سے بڑھ کر حصہ نہیں سے ہوئی جو واقف زندگی تھے۔ربوہ میں بمنہ کے کاموں میں حصہ لیتی حضور نے جائیداد وقف کرنے کی تحریک فرمائی تو آپ نے بڑے اخلاص ہیں اب ڈیوس برگ مغربی جرمنی میں مقیم ہیں۔امتہ الوہاب صاحب کی شادی محترم عبداللطیف قال صاحب ۸۶