المحراب

by Other Authors

Page 68 of 167

المحراب — Page 68

پر پیش کیا تھا۔آپ کو الہامی نام اور آسمانی تحفہ "ڈخت کرام کے ہو گئے۔آپ کی اس بھی بیماری میں حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ بابرکت الفاظ سے سرفراز کیا جانا ایک خاص انعام کے طور پر تھا۔نے خدمت کا وہ نمونہ دکھایا جس کی مثال ملنا محال ہے۔مئی 119ء میں حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو اللہ تعالے قدر شناس خاوند نے بھی اس بے مثال خدمت کو سراہتے نے آپ کی بابرکت ولادت سے مطلع فرماتے ہوئے البہانا بتایا۔ہوئے تحریر فرمایا۔وخت کیام" یعنی ایک لڑکی ہوگی جو ہر جہت سے کریموں کی ونعت ہوگی۔( تذکره شمالی) یہاں اگر اپنی حضرت دُخت کرام امتہ الحفیظ بیگم کا ذکر نہ کروں تو نہایت ناشکری اور ظلم ہوگا۔یہ نور کا میڈیا خت کرام کے آسمانی نام سے آپ کے تمام حنات جمیلہ حضرت صاحب کا جگر گوشہ کسی خدمت اور کسی نیکی کے عوض اور اوصاف حمیدہ سے متصف ہونے کی بشارت دی گئی وہاں مجھے حاصل ہوا ہے اس بات کو سوچ کر میں ورطہ حیرت میں آپ کے اوصاف حمیدہ اور شمائل جمیلہ کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہ ان الفاظ میں آپ کی درازی عمر کی پیشگوئی بھی مضمر تھی کہ ڈنی پڑ جاتا ہوں۔۔۔اس اللہ تعالیٰ کی بندی نے اپنے اوپر آرام کو حرام کر لیا۔رات دن جاگتے ہوئے کاٹتی تھیں۔۔۔اعتراف کرے گی کہ حقیقت میں آپ دخت کرام ، تھیں اور خدا تعالی کی محبت اور صفت حفیظ کا مظہر تھیں۔یہ ناز و نعمت کی پلی جو کہ ریشم و اطلس کے لحافوں میں آرام کی عادی تھی زمین پر چند منٹ کے لئے کسر ٹیک کر آرام آپ جب چار سال کی ہوئیں تو آپ کے والد ماجد حضرت لے لیتی تھیں۔چند منٹ کا آرام اگر میسر آجائے تو آ جائے ورنہ بانی سلسلہ احمدیہ وفات پا گئے۔چنانچہ آپ کی پرورش حضرت ہر وقت چوکس ہو شیار میرے کام کے لئے مستعد ہوتی تھیں۔۔۔۔اماں جان اور آپ کے بڑے بھائی حضرت مصلح موعود نے اپنی بچیوں میری با وفا پیاری بیوی نے کسی کی امداد پر بھروسہ نہیں کی طرح بے پایاں شفقت و محبت سے کی۔آپ کی تربیت میں بلکہ ان کی یہی خواہش اور آہ زور سہتی تھی کہ خود ہی میرا کام کریں توفیق ایزدی جس مثالی وجود کی پرورش مقصود بھی اُس کا اندازہ آپ اگر کسی دوسرے کو کام کہتا تاکہ ان کہ آمرام ملے تو اس سے خوش کی تنظیم آمین سے ہوتا ہے جو صاحبزادی صاحبہ کے سات سال کی عمر ہونے کی بجائے ناراض ہو ہیں۔۔۔میں ناظرہ قرآن مجید مکمل پڑھ لینے پر آپ نے کہی۔اب دیکھو اللہ تعالی کا کس قدر احسان ہے کہ اس گیارہ سال کی عمر میں آپ کا نکاح حضرت نواب محمد عبداللہ نے صرف مجھے دنیا ہی نہیں دی بلکہ اپنے بے شمار رحم اور خان صاحب سے ، جون 1910ء کو پڑھا گیا۔آپ کے نکاح کے خطبہ کریم فرما کر حقیقی معنوں میں مجھے عبد اللہ بنا دیا۔۔۔میں اپنے آپ اور اعلان کا شرف حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی (مرحوم) کو حضرت۔۔۔کی دو بیٹیوں کا خادم سمجھتا ہوں۔میری ساری کوشش اور محنت صرف اس لئے ہے کہ اس پاک وجود کے کو حاصل ہوا۔حضرت مولانا صاحب کو قبل از وقت اس خطبہ نکاح کی سعادت کے متعلق ایک رڈیا کے ذریعہ بشارت دے دی گئی تھی۔آپ کے گر خصانہ کی تقریب سعید ۲۳ فروری ۱۹۱۶ م کو عمل میں آئی۔آپ کے شوہر گرامی حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب حضرت نواب محمد علی خان صاحب کی پہلی بیگم سے دوسرے صاحبزادے تھے۔اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے بیچے جانثار اور نوابی میں بھی درویشی کا اعلیٰ نمونہ تھے۔آپ دونوں کی زندگی حقیقت میں قدر شناسی وفا شعاری اور خدمت ومحبت کا ایک حسین نمونہ تھی۔ہگہ بارے آرام پائیں جن میں سے اللہ تعالے نے ایک کو میرے والد اور ایک کو میرے سپرد کیا ہے؟ دسیرت تواب عبد اللہ خان من اصحاب احمد ۲۵ اگست ۱۹ ء کا دن احمدیت کی تاریخ میں ایک یادگار دن ہے۔جب عظیم الشان الہی نشانوں کی مظہر حضرت سیے پاک کی لخت جگہ حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کو اللہ تعالے نے یہ عظیم سعادت عطا فرمائی کہ آپ کے مقدس ہاتھوں سے عیسائیت کے گڑھ سوئٹزر لینڈ فروری ۱۹۴۷ء کو حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب میں بیت الذکر کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور آپ نے اس موقعہ پر پر دل کی بیاری کا شدید حملہ ہوا آپ مستقل طور پر صاحب فراش Swiss لوگوں کو جو بیت آریار پیغام کہ 24