المحراب — Page 35
۳۷ کیا کروں! محترمہ طاہرہ صدیقیہ ناصر صاحبہ چاہوں بھی گر تو شکر کا اظہار کیا کروں مجھ میں نہیں ہے طاقت گفتار کیا کروں جب دل کے تو قریب ہے اور اس قدر قریب ظاہر میں پھر وصال پر اصرار کیا کروں ٹھہری ہے شرط پیار کی جب راز داریاں پھر غیر کو میں شامل استوار کیا کروں جو تھے الاؤ نار حسد کے بجھا دیے ان نیکی بارشوں کا میں اقرار کیا کروں جب دل کی کیفیت کا زباں ساتھ ہی نہ دے احسان و حسن یار کے اذکار کیا کروں ہر موتے تن کو عشق میں اک آنکھ چاہے ہیسے شوق تھا میں نہین ہی گلزار کیا کروں