المحراب — Page 34
دین احمد پھر سے زن 3 ہوگیا دنیں ہمیں آج ! صاحبزادی امتہ القدوس صاحبہ۔ربوہ آج پھر تثلیث نے توحید سے کھائی ہے، مار رفتہ رفتہ پھٹ رہا ہے شرک و بدعت کا غبار اُٹھ رہی ہے آج پھر دنیا سے رہ رہ کے بیکار " اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار اے میرے پیارے، میرے مشن میرے پروردگار" ایک جانہ یں ہیں اور اُن کے قاسم ہیں مستان ہیں ، الزام ہیں سے عام ہیں ا عجائب کام ہیں دیتا ہے قسمت کے نماز دین احمد پھر سے زندہ ہو گیا دنیا میں آج اُس کے دشمن خوار ، وہ ہے کامیاب دارجمند احمد ثانی نے رکھ لی احمد اول کی لاج" پستیاں پہنچا سکیں کیا اہل رفعت کو فرزند علم قرآن کا ہوا پھر قرآن انسانی پہ راج حسن دین سے منحرف ، آلائش دنیا پسند آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج مسیر پہ اک سورج چمکتا ہے مگر آنکھیں ہیں بند نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناکہ زندہ وار مرتے نہیں بے آب وہ اور دیر یہ نہر خوش گوار معتبر ہونے لگی پھر زندگانی کی اساس مردہ کو جوں میں جنم لینے لگی جینے کی آس پاگئے پھر گوہر تابندہ کو جو ہر شناس ور کس طرح تیرا گھروں کے زوال من شکر و سیاس وہ زباں لاؤں کہاں سے میں سے ہو یہ کاروبار دیکھتے ہو تم ہمارے ساتھ کیا نفرت نہیں ؟ ہم یہ کیا فصل خُدا ، یا سایہ رحمت نہیں ؟ ہو ہمیں ایسی کوئی نعمت نہیں ! صاف دل کو کثرت اعجاز کی حاجت نہیں اک نشاں کافی ہے گر دل میں ہو خوف کردگار بڑھ کے پھر اہل جہاں کو دعوت اسلام دو چش : صافی رواں ہے، کر بھی لے آپ ال کو منات تشنہ روحوں کو شراب معرفت کے جام دو عجز کی راہوں کو اپنا، چھوڑ دے لاف و گزاف نفرتوں کی محفلوں میں پیار کے پیغام دو پہنچ ہیں ورنہ نماز و روزه و حج و طواف ! گالیاں سُن کے دُعا دو یا کے دکھ آرام دو یہ کمال مت کر کہ یہ سب بد گمانی ہے معاف کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار قرض ہے واپس ملے گا تجھ کو یہ سارا اُدھار آج بھی دکھلا رہا ہے وہ صراط مستقیم رحمتیں برسا رہا ہے آج بھی رب رحیم فضل اپنے کر رہا ہے ہر گھڑی مولا کریم وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے میم اب بھی اس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار اے خُدا ہر چیز میں جلوہ تیرا موجود ہے ! تو ہے لامحدود میں باقی سبھی محدود ہے تیری چاہت تیری خوش نودی میرا مقصود ہے " اس جہاں میں خواہش آزادگی بے سود ہے پاک تری قب محبت ہے جو کر دے رستگار ۳۶