المحراب

by Other Authors

Page 134 of 167

المحراب — Page 134

قدمت دین کو اک فضل اللہی جانو کیا اور پیا کرنا اور کا میں لگی پیدا کرنا ہے۔یہی سوالن جب جیلی اے سے پوچھا تو آپ نے جواب دیا۔اپنے بارے میں سب سے زیادہ بڑا اعزاز مجھے حضرت جمیلہ عرفانی صاحبہ نواب مبارہ کہ بیگم صاحبہ نے دیا۔سیرت النبی کا جلسہ تھا۔حضرت بیگم درنایہ کی تقریر بھی تھی جب میری تقریر ختم ہوئی تو خود میرے آنسو بہہ رہے تھے ناصرات الاحمدیہ کے قیام کے وقت نصرت گرلز ہائی اسکول میں موجود جب میں بیگم صاحبہ کے پاس گئی تو ان کی آنکھوں سے بھی آنسو بہر رہے ایک نھی بیچی سرخ رنگ کا ناصرات الاحمدیہ کا بیج ملنے پر مسرور ہو کر دن جبان تھے انہوں نے فرمایا۔سے ناصرات اور پھر لجنہ کی تنظیم کے ہر پروگرام میں حصہ لینے گیا۔سب سے پہلے ظالم تو نے غصب کر دیا تمہارے بعد تو بولنے کو دل نہیں امتہ الھی لائبریری کی سیکر ٹری کا عہدہ ملا۔لجنہ مرکز ی کی سب سے کم عمر مبر کو چاہتا، یہ سب سے بڑا خراج تحسین تھا جو مجھے حاصل ہوا۔اس کے کونے میں دبے ہوئے دیکھ کر حضرت اللہ ناصر نور اللہ مرقدہ نے دیکھا ہاتھ بعد مجھے کبھی تعریف کی حاجت نہیں ہوئی۔پکڑ کر کھڑا کیا اور فرمایا خوب تن کر بیٹھا کر و چھپ کے کیوں بیٹھتی ہو۔۔۔کراچی لجنہ کی ابتدائی سرگرم کامہ کنات میں آپ کا نام نمایاں ہے۔قدرتی طور پر قیادت کا ملکہ پایا تھا۔چنانچہ لجنہ کے حلقوں کے قیام انتخابات عاملہ کے محترمہ نصیرہ انور صاحبہ اہلیہ محترم شریف احمد درانی صاحب 194 ء سے خدمات کا آغانہ کیا۔کراچی بھتہ کی عمارت کی بنیادی اجلاس بروقت کروا کے ہر حلقہ کو ساتھ لے کہ تیزی سے چلتیں سالانہ ولپور میں لکھ کر طبع کر وا کے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں اور مرکز کے اہم دخانہ میں ارسال کر نہیں۔نوجوان تعلیم یافتہ لڑکیوں کی ایک تنظیم جنگ دین الیسوسی ایشن قائم کی میں کا مطمح نظر تر بیت واصلاح اور خدمت خلق تھا۔تقریر کی مشق کرانے کے لئے پندرہ روزہ تربیتی کلاس لگائی میں سے کافی ممبرات اینٹوں میں سے ہیں۔ناظم آباد، پی ای سی ایچ ایس، اور ماڈل کالونی میں نے استفادہ کیا اور لجنہ کراچی کو تربیت یافتہ مقررات ملتی رہیں شاد کی حلقے قائم کئے۔تربیتی کلاسوں اور درس کے استمام اپنے مکان پر کئے ہی نہ جنگ کے دوران ہنگامی طور پر انتھک کام کیا۔لیڈی ڈفرن ہسپتال اور میں مرکز سے سند خوشنودی ملی اس کے علاوہ حسن کارکر دگی کے میں نزیر جنگ کی تربیت کا انتظام کیا فوجیوں کے لئے سویٹر، ٹوپیاں اور ان گنت انعامات حاصل کئے سر 1947 ء میں ضلع کراچی کی سیکرٹری مال کی دیگر تخالف جمع کر کے پھیٹ بنائے ایک جلسہ منعقد کروا کے اس اہم ملکی ضرورت کے پیش نظر اپنی خدمات پیش کیں۔اور مال کے سارے کام کو ضرورت کے لئے چندہ کی تحریک اس موثر اندانہ میں کی کہ خواتین نے باضابطہ بنایا۔ہر نومبر کو بلیک میں اکاؤنٹ پہلا کھلوایا ، ہر حلقے زیورات اور نوٹوں کی بارش کر دی۔سٹیٹ بنک کے منیجر صاحب نے میں سیکرٹری مقرر کی۔کچھ رقم جمع ہوئی تو دس دس ہزار کے دو فکس ڈپارٹ کہا کہ پہلی مرتبہ اتنا سونا ہمارے پاس آیا ہے۔۱۹۷۲ میں سیرۃ النبی کے سرٹیفکیٹ خریدے جو شاہ میں کیش کروا کے نہیں ہزار روپے کی رقم کے جلسہ کا پروگرام کراچی ریڈیو نے ریکار ڈ کیا اور بعد میں جمیل عرفانی صاحبہ حضرت خلیفہ امسیح الثالث کی خدمت میں برائے اشاعت قرآن پیش کی گئی کی تقریر کا کچھ حصہ نشر کیا۔1970ء کی جنگ کے دوران افریقہ سے ایک مال کے علاوہ خدمت خلق کا بہت کام کیا جس میں حمیرات کے عطیات پرانے خط موصول ہوا کہ ریڈیو پاکستان سے سواحیلی میں پروگرام نہیں ہوتا جس کی کپڑوں کو دھو کر مبین وغیرہ ٹانک کہ استری کر کے پیکٹ بنانا بھی شامل ہے۔وجہ سے بی بی سی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔جمیلہ عرفانی صاحبہ کی تحریک پر میں کیسٹ پروگرام کے کسیلا سیکشن کی انچارج نہیں ان میں شعیر ریڈیو پاکستان نے سوا خیلی پر وگرام شروع کر دیا جو اب بھی جاری ہے۔ان اشاعت کا سیلہ سیکشن سنبھالا ہوا ہے۔اس فقال عہدے دالہ کی صحت کے کارناموں کی فہرست طویل ہے۔سب سے اہم بات کراچی لجن میں پتھر رک - طمانیت کے لئے دل سے دعا نکاتی ہے۔۱۴۲