المحراب

by Other Authors

Page 120 of 167

المحراب — Page 120

کہ نہیں اور میں نے جواب دیا تھا کہ بھٹو میں بنانا جائز ہے لیکن ہیں۔وہ ان پر حرام ہیں والطيبت من الرزق خواہ اچھی باتیں بنانا جائز نہیں۔یہ شاید آپ سمجھی نہیں اس وقت ہر گنہ چیزیں عام ہوں یا رزق میں سے اچھی چیزیں ہوں کوئی بھی حرام نہیں۔بھی للذین امنوانی الحياة الدنيا خالصة میرا مقصد کوئی دکھ دنیا یا سختی کرنا نہیں تھا۔میں نے تو اس وقت ماحول چونکہ سنجیدہ ہوا ہوا تھا۔اس کو ذرا سا ہلکا کرنے کے لئے یوم القیامہ۔یہ ہمارے مومن بندوں کے لئے اس دنیں ہیں ایک بے مزد تطبیقہ کے طور پر بات کی تھی اگر آپ کو اس سے بھی جائز ہیں اور اس دنیا میں یعنی قیامت کے بعد تو خالصہ تکلیف پہنی ہوتو میں معذرت خواہ ہوں میری ہرگز میرا نہیں تھیں ان کو ملیں گی اور دوسروں کو ہیں لیں گی۔بات یہ ہے کہ یہ جو نہ مانہ جاہلیت کے رواج تھے اس کے پس منظر به دو بنیادی آئیں جن کی روشنی میں ہی مسئلہ حل ہوگا ئیں کو سمجھے بغیر بعض احادیث کو آپ نہیں سمجھ سکتیں۔یہ سمجھتا ہوں کہ اس حدیث سے لازما وہ رواج مراد ہیں جوت بوج اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم کی روشنی میں الجاهلیہ کے تابع مشرک عرب میں جاری تھے اور جیسا کہ تاریخ احادیث کو حاصل کیا جائے تب تو بات کھل جاتی ہے ورنہ ان سے ثابت ہے مشرک معرب میں جو ہوا جات جاری تھے ان کا لانگا چھوٹی چھوٹی باتوں میں اتنی غلط فہمیاں پیدا ہو جائیں گی اور دین اتنا شرک سے کوئی نہ کوئی تعلق تھا جس طرح آجکل کوئی لٹیں بنالیتا ہے مشکل ہو جائے گا کہ دن بدن اس پر عمل اور زیادہ مشکل ہوتا چلا کوئی چوٹی رکھ لیتا ہے یہ ہمارے اس علاقے میں بھی رواج ہے جائے گا کیونکہ زمانے کے لحاظ سے انسان کا مزاج بدل رہا ہے جہاں شرک ہے اور پیروں کے نام پر شکلیں بگاڑتے ہیں۔بالکل اس قسم کے یہ واج بلکہ اس سے بڑھ کر نعربوں میں تھے اور جہالت اور فطرت کی باتوں پر تو انسان لانہ کا اطاعت پر پابند ہے لیکن اگر انسانی فطرت یہ سمجھے کہ غیر ضروری اور غیر حلقہ پابندیاں ہیں تو کے مشرک عرب کے معاشرے میں شرک کے عناصر مل جل گئے تھے لانہ کا انسانی فطرت پھر اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے اور اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس چیز کو منع فرما دیا تو شرک ایسے احکامات قرآن کریم اور احادیث میں نہیں ہو سکتے جن سے کی پیدوار تی بنگن جہاں یہ تعلق نہ ہو یعنی شرک کا کسی عادت انسانی فطرت بغاوت کرتی ہو۔یہ بات مسلم ہے اور بنیادی اصول سے یا کسی رواج سے یا کسی تمدن اور تہذیب کے حصہ بلکہ خالصتنا انسانی فطرت پر نبی کوئی ذریعہ نہیت اختیار کیا جارہا ہے اس لئے اسے بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔سے میں نے جو غور کیا ہے میرے نزدیک اصولی آیت جو ہو۔اس کو آپ ہرگیز نا جائزہ نہیں کہہ سکتیں ورنہ عجیب و غریب اس مسئلہ پر روشنی ڈالتی ہے وہ ہے ولا تبرج الجاهلية باتیں اور بھی سامنے آئیں گی ماہ بعد کی عام ایجادات اور زینت الاولی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ علم کی نظر قرآن کریم کی اس آیت کے وہ سب ذرائع جو اس زمانہ میں نہیں تھے مشلاپ مشک روز پر ہی بھی کہ نہ مانہ جاہلیت کے سنگھا نہ بناؤ نہیں کرنے وہ حرام ہیں نیل پالش اور بہت سالم ہی چیزیں تو سب جائزہ ہو جائیں گی ہاں صرف بھونیں ٹھیک کرنا اور ان کو سلیقے سے براسیہ کرنا نا جائز سمجھا اور دوسری طرف مختلف جگہ پر یہ بھی فرمایا کہ اپنی زینتیں غیروں پر نہ ظاہر کرو۔کوئی زینت عورت کرتی ہے تو ظاہر نہیں کرے گی جائے گا۔اس لئے میرے نزدیک تو ہرگز یہ مراد نہیں ہے بلکہ لا قبر جن تبرج الجاهلية کے تابع ہو جہالت کے تصورات بطور در ته نیت ظاہر نہ کرنے حکم بے معنی ہو گا۔سوال یہ ہے کہ کونسی زیست تمدن میں راہ پاگئے تھے انہی سے منع فرمایا گیا ہے۔زینت ہے۔صرف اعضاء کی زینت مراد نہیں بلکہ دوسری زینتیں بھی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم اس زینت کے لفظ کو خود واضح فرما رہا ہے ایک اور آیت میں ہے قل من حرم زینة التي اخرج لعباده والطيبت من الرزق۔رکيو كون فاکر کہتا ہے کہ خدا نے جو رہتیں اپنے بندوں کی خاطر پیدا کی ل الله في الي مراجع ۱۲۸