المحراب — Page 116
جب یہ خط مجلس عاملہ میں شنایا گیا تو ہم میں سے ہر ایک والده مرحومه کلتوم بیگم صاحبه کو یقین تھا کہ حضور کو جو نام باد تھے ان میں میرا نام بھی شامل تھا اور خود بیگم حمید احمد رانا صاحبہ یہ دُعائیں میرے لئے بھی ہیں۔یہ دو طرفہ محبت کا جادو تھا جس نے جذبہ عشق کے سوا سب جذبے سرد کر دیتے تھے۔آقا کی طرف سے 79-- **** محصور ابد الودود نے ان کے اس انداز کو سرا ہا تھو ستر کھر یورپین مراکز کے پھندے کی تحریک ہوئی تو لجنہ کراچی نے بڑھ چڑھے قابل تقلید قرار دیا اور دین و دنیا کی نعمتوں کے حصول کے لئے کر حصہ لیا۔دعاؤں سے سرفراز فرمایا۔قربانی کا معیار انسان نہیں مقرہ کر سکتے۔خدا تعالے نے میرات کی قربانیاں حضور انور سے دُعاؤں کا ثمر لائیں۔میں متعدد خطوط میں سے دور کا لنلف پیجئے۔کسی کی ایک پائی اور کسی کے ایک لاکھ کو کیا درجہ دیا ہمیں معلوم نہیں ہماری آنکھوں نے جو نظارے دیکھے اس میں ایک ایک خلوص کے اکتوبر کشور اختیار سے انتہائی ایمان افروز ہے۔کچھ بچے اپنے غلے توڑ کر پانچ پیاری محترمہ آیا سلیمہ میر صاحبہ پانچ پائی، دس دس پانی کے جمع کئے ہوئے سکتے باندھ کر لے آئے۔السلام عليكم ورحمة الله وبركاته کچھ خواتین نے اپنا تمام تر زیور پیش کر دیا۔بعض نے تو اندازہ بھی آپ کی نہایت خوش کن رپورٹ کارگزاری مورخه نہیں رکھا کہ کتنے تو لے اور کتنی مالیت کا زیور ہے۔ایک بچی کو ہ ۲۶ موصول ہوئی۔جزاکم اللہ تعالے احسن الجزاء۔اللہ تعالے تعلیم جاری رکھنے کے لئے تعلیمی وظیفہ دیا تو اس نے یہ وظیفہ فنڈ آپ اور آپ کے رفقائے کار کو اجر عظیم عطا کرے اور ان میں دے دیا۔ایک خاتون نے اپنی سلائی کی مشین دے دی جس کے مالوں اور جانوں اور اولادوں میں برکت ڈالے اور سے کپڑے سی کروہ گذر بسر کر تی تھی۔ایک خاتون نے وہ گائے نور احمدیت کو پھیلانے میں اپنی تائید و نصرت سے مدد فرمائے پیش کر دی جس کا دودھ فروخت کر کے گزارہ کرتی تھی۔ایک یورپین مراکز میں مالی قربانی کرنے والیوں کو علیحہ : اپنے دستخطوں خاتون نے کپڑوں کی سلائی کر کے پیسے جمع کر کے اپنا اکلوتا زیویر سے خط بھیجوا رہا ہوں سب کو میرا محبت بھرا سلام پہنچی ہیں۔ناک کی کیل بنوائی ابھی پہنتی نہ تھی کہ آقا کی آوازہ کان میں پڑی اللہ تعالے سب کو اپنی استعداد کے مطابق قربانیاں پیش کرتے لا کر چندے میں دے دی۔ایک خاتون کے متعلق علم ہوا ہے کہ کی توفیق دے۔تین کر دیے چندے کا یہ عمرہ رے کا وہ عمدہ لکھوا کر آٹھ آٹھ آنے کی قسط میں آپ کی خدمت دین کے مشوق اور ولولہ کو دیکھ کر میرا ادا کیا۔اس قسم کے بے شمار واقعات تاریخ کا حصہ ہیں اور حجامت دل خوش ہو جاتا ہے اور دل سے دعا نکلتی ہے۔اللہ تعالے اپنے فضلوں کا وارث بنائے اور خدمات کو قبول فرمائے۔کے بتہ بے ایمانی کی دلیل ہیں۔ایک بہن نے ایک نیک مثال پیش کی اور اپنا پھندہ تفصیل ذیل ادا کر دیا۔از طرف حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم 4 H کرالی سیح موعود خليفة أسبح اول الثانی " " H الثالث والد مرحوم ڈاکٹر نذیر احمد صاحب۔۔۔۔فروری ۵۸۵ والسلام تاکان دستخط مرزا طاہر احمد پیاری محترمہ آپا سلیمہ میر صاحبه السلام عليكم ورحمته الله بركاته خليفة اسح الرابع آپ کا خط ، پڑھ کر دل خدا تعالے کی حمد و ستائش ۱۲۲