المحراب

by Other Authors

Page 110 of 167

المحراب — Page 110

قسمت کے شمار حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے لجنہ اماءاللہ کہراپی کو ایک مثالی تنظیم بنانے کے لیے لبینہ مرکز پہ سے اس کا الحاق ختم کر کے براہ راست اپنی نگرانی میں لے لیا۔آپ نے مجلس عاملہ ختم کروں اور پانچ ارکان پر تشتمل ایک کمیٹی تشکیل فرمائی۔اس متفق اور مہربان قیادت کا پانچ سالہ دور کراچی لجنہ کا شہری دور ہے۔۳۰ اگست ۱۹۸۱ء کو بیت الحمد مارٹن روڈ میں کراچی کی ممبرات چین سے خطاب کرتے ہوئے۔۔آپ نے فرمایا کے انتخاب کے لئے محترمہ حضرت مریم صدیقہ صاحیہ صدر به مرکز ی کرانی تال چونکہ کچھ کر دریاں میں نے یہاں دیکھیں اور ٹینیں۔اس لئے لائیں تو بہت دعا کی اور بہت سوچا کہ اب یہ اہم فریضہ کون ادا کر سکے عارضی طور پر کہیں بھنہ کا جو یہاں نظام ہے اُسے اس وقت بدل رہا ہوں گا۔آپا نصیرہ صاحبہ کے ساتھ تو خاندانی وجاہت اور پرانا تجربہ تھا میں لجنہ کا جو یہاں نظام تھا اس میں لجنہ کی صدر اور مجلس عاملہ ہوا کرتی نے اس گھراہٹ کا اظہار حضرت چھوٹی آپا صاحبہ کے سامنے بھی کیا آپ تھی یہی قاعدہ ہے لیکن اس وقت وہ سب ختم کر کے میں ایک کمیٹی نے دعا کی تلقین فرمائی۔انتخاب ہوا۔میرا نام بھی اس میں شامل فضلہ دوٹ بنا تا ہوں جو لجنہ مرکزیہ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوگی اور تفصیلی رپورٹ بھی کافی ملے تھے مگر تیجہ کی منظوری نہیں آئی تھی۔حضرت خلیفہ آج الثالث سامہ سے حالات گرحجانات اور عادات اور بدعات اگر کوئی آجائیں نے مجھے کیٹی کا صدر مقریہ فرمانے کا اعلان کیا تو میری نجیب کیفیت تھی اللہ پناہ میں رکھے ہم سب کو) اس کی رپورٹ پندرہ روز مجھ پہنچا ئیں گی سکتہ کا عالم تھا اور پسینہ پسنہ ہو رہی تھی۔حضرت چھوٹی آپا صاحبہ تاکہ میں تجس کی ذمہ داری ہے جماعت کو بلند مقام پر رکھنا اس سلسلہ میرے قریب سے گزر رہیں اور فرمایا آمنا و صدقنا۔اب ایک میں باخبر رہوں۔۔حرف اطاعت امام اور دوسری طرف اپنی کم مائگی اور وسیع پیمانے پر اس کے بعد مندرجہ ذیل پانچ رکنی منتظر کمیٹی نامزد فرمائی۔کام کرنے کا تجریہ نہ ہونے کا احساس تھا میں کھاؤں میں لگ گئی گڑ گڑا محترم سلیمہ میر صاحیہ اہلیہ محترم عبد القادر صاحب دار مرحوم کر خدا تعالے سے مدد مانگی اور کام شروع کیا۔جلدی جلدی مجالس عاملہ محترمہ نصیرہ بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مرز اظفر احمد صاحب مرحوم کے اجلاس بلائے قیادتوں اور حلقوں میں دورے کئے اور ان کے محترمہ امته الرفیق صاحبہ اہلیہ جاوید ظفر اللہ صاحب سامنے بھی اطاعت ، تنظیم سے وابستگی ، اسلامی اخلاق اپنا نئے بدعات محترمه شیرین حمید صاحبہ اہلیہ چو ہدری عبدالحمید صاحب کے خلاف جہاد کرے ناجائز اعتراضات سے لیکلی پر ہیز کرنے اور محترمہ خود جہاں بت کی صاحبہ اہلیہ قریشی داؤ د احمد صاحب کثرت سے استغفار کرنے کی طرف توجہ دلائی۔بار بار حضرت ادریس کی خدمت اس کمیٹی کی صدر محترم سلیمہ میر صاحبہ کو مقرر فرمایا۔بحریہ موصوفہ میں جا کے لئے خطوط لکھے یہ انہیں کی دُعاؤں سے الہلی تصرف تھا کہ لیجند سے کمیٹی کے قیام کے متعلق گفتگو کی تو آپ نے بتایا کہ بھتہ کراچی کی صدارت کراچی میں خصوصی بیداری پیدا ہوئی حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی رہنمائی کے فرائض ایک طویل عرصہ تک محترمہ نصیرہ بیگم صاحبہ ادا کر رہی تھیں۔ہمیں بہت کم عرصہ میسر آسکی پھر ہمارے کبھی دلوں کو حضرت خلیفہ ایج اب اُن کا عرصہ صدارت مکمل ہو چکا تھا۔19 یو میں جب نئی صدر الرابع کی شفقت اور دعاؤں نے دلاسہ دیا یہ با برکت وجود ایسے کیا گہر