المحراب

by Other Authors

Page 106 of 167

المحراب — Page 106

وہ صاحب اولاد ہوئی اور ہمیشہ کہتی تھی کہ محض آپ کی دعا کا تیج ہے ورنہ نہیں تو مایوس ہو چکی تھی۔اس طرح مالی استعانت کے علاو: محترمہ عائشہ خادم حسین حیبه یہ انڈسٹریل ہوم ایک طرح سے تعارف کا ذریعہ بھی تھا۔خاندان والوں اور خلافت سے عشق تھا۔محترمہ اماں جان برایر محترمہ عائشہ بیگم اہلیہ شیخ نادم حسین صاحب قیام پاکستان رہیں۔حلقہ لالو کھیت میں تا حیاتی کیوریٹری مال اور حزب انچارج کے انہیں خط لکھتی تھیں۔آپا امتہ الحئی صاحبہ سے تو بے حد پہنایا اور کے وقت ہی کراچی تشریف لائیں اور ابتداء سے ہی بھن کراچی سے منسلک دوستی تھی۔آپا سلیم بیگم کی صاحبزادی کا بیان ہے کہ " حضور خلیفہ مسیح الرابع کی والدہ صاحبہ آپا مریم کے تو ہم طور پر کام کی۔گھر گھر جا کر چندہ اور صدقہ جمع کرتیں۔اور ہمیشہ بجٹ سے مستقل مہمان ہوتے تھے۔ان کی بیماری میں لاہور میں ان کی تیمار داری زیادہ چندہ اکٹھا کر کے دیتیں۔مرکز سے دو مرتبہ سندات خوشنودی حاصل بھی کی حضور اب بھی جب امی جان کو یاد کرتے ہیں تو آواز بھرا جاتی کیں۔جشن پنجاه سالہ لجنہ مرکزہ یہ کے موقع پر سیدہ صدر صاحبہ بینہ مرکزیہ نے ہے۔آتے تو امی کو فون کرتے آیا میں آرہا ہوں لیکن خدا را رو دیں بھی سند امتیاز سے نوازا۔نہیں میں پان کھانے آرہا ہوں۔اتنی حضورہ کی آمرانہ سن کر ہمیشہ رو دیتی چندہ خور جا کرے آئیں مگر ناخواندہ ہونے کی وجہ سے بعد ازاں میں انہیں غالباً آیا مریم یاد آجائیں اور یہ کہ ان کی حیات نے وفانہ کی رسیدیں کسی پڑھی لکھی ممبر سے کوالیتیں۔ور وہ حضور کا یہ عروج نہ دیکھ سکیں ؟ کوئی اجلاس یا بجاہ ہوتا تو گھر گھر جا کہ اطلاع پہنچائیں۔اور اکثر چودہ سال صاحب فراش رہیں مگر لجنہ کی قدمت اس حال کمز در بہنوں کو خود بعد اصرارہ جلسوں میں لے کر جائیں۔ہر گھر سے رابطہ میں بھی کرتی رہیں۔ہر حالت میں نمازہ کی ضرور پابندی کرتیں۔روزہ اگر چہ رہتا۔متعدد لڑکے لڑکیوں کے رشتے کروائے۔اگر کسی احمدی بہن کو ان بعد میں نہ رکھ سکتی تھیں مگر دوسروں کو باقاعدہ اٹھا کر روزہ رکھواتیں کی مدد کی ضرورت ہوتی بخوشی کرتیں۔سودا سلف لانے ، کھانا پکانے اور نہ رکھنے والوں سے ناراض ہوتیں خاموشی سے لوگوں کی مدد کرنا ان دوالا نے بچے سنبھالنے اور بعض اوقات ہسپتال میں رہ کر تیجار داری کا شیوہ تھا۔کسی کو پنڈ بھی نہ چلتا اور آنے والی کی ضرورت پوری ہو جاتی کرنے تک میں کبھی عار محسوس نہ کیا۔اسی طرح ہر آنے جانے والی حسب توفیق تواضع کر نہیں۔تمام لڑکیوں کو احمد یہ ہال میں مددگارہ کارکن کے طور پر سالہا سال کام کیا۔اجلاس والے دن تاکید کرہ کے اجلاس میں بھیجو انہیں اور آخر وقت تک دریاں اور صفیں بچھانا اور پھر اٹھا کہ بحفاظت رکھنا۔انہیں دھونا اور موقع محل سے گھر والوں کی تربیت کا خاص خیال رکھتی رہیں۔یہی وجہ محفوظ رکھنا۔میٹنگوں اور جلسہ جات میں سامان لگوانا اور پھر اٹھوا کہ ہے کہ ان کے تربیت یافتہ گھرانے کی تمام خواتین بھنہ کی فعال حمبرات رکھنا یہ سب ذمہ داریاں آپ نے اپنے سرے رکھی تھیں اور دال جان ہیں اور اپنی بزرگ کے نقش قدم پر چلنے کی سعادت حاصل کر رہی ہیں۔سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی عادی تھیں۔آپا سلیمہ نے انڈسٹریل ہوم کی نگراں کی حیثیت سے اس کے وفات سے دو سال قبل کمزوری اور نظر کی خرابی کی وجہ قیام کے وقت سے بندش تک خدمت کی۔نیز ۶۳ - ۱۹۶۲ سے سے ڈاکٹروں نے باہر نکلنے کو منع کر دیا تھا جس کا انہیں بڑا فلق تھا۔۷۰ ۱۹۶۹ م تک نائب صدر لجنہ رہیں اور جب تک جہات رہیں اکثر کہتیں کہ شہرے مجھ سے کیا غلطی ہوگئی کہ اللہ نے دینی کاموں سے ایک فعال اور سرگرم نمبر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی ہیں۔روک دیا۔انتقال اچانک ہارٹ فیل کے سبب ہوا۔اور یوجہ موصیہ ہونے کے ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔بہت عبادت گزار اور دعا گو خاتون کبھی کسی کی غیبت یا آپ کی بیوی تھی کہ اپنے بعد خدمت کا جذبہ رکھنے والی مہرات کو کام کے لئے تیار کر گئیں۔آپ کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی شکوہ نہ کرتیں۔جب موقع ملا اعتکاف بیٹھتیں۔اور درس یا بڑے درخواست ہے۔جلسہ جات میں بہت دور دور جا کر شامل ہو تیں یا کہ اپنے حلقہ کی دیگر خواتین ۱۱۴