المحراب — Page 94
کر ملک سے باہر رہنے لگی تھیں اور دونوں نائب صد در اپنی کمزور صحت حسب ذیل ہے۔کی ناو یہ حلقہ جات میں دورے کرنے کے قابل نہ نھیں لہذا ایک جمود صدر الجنه : محترمہ بیگم مجیدہ شاہندوانہ صاحیه کی سی کیفیت طاری ہونے لگی اور وہ لجنہ جس کا ماضی نہایت ہی فعال اور مستعد تھا اب شست اور مز در شمار ہونے لگی۔اس موقع پر حضور ایدہ اللہ کی فراست نے بھانپ لیا کہ اب بجھہ کراچی کو تازہ خون درکار ہے۔اس کے علاوہ محترمہ صدر صاحبه لجنه مرکز ی کی ہدایت پر ۳ نائب صدور منتخب کی گئیں۔تاکہ دورہ جات میں زیادہ وقت نہ ہو۔چن اپنے نائب صدر میرا محترمہ نصیرہ بیگم صاجزادہ ظفر احمد صاحب۔نائب صد نمبرا چنانچہ انہ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العربیہ کے ارشاد کے مطابق خدام محترمہ بیگم ایم اے خورشید صاحیہ اور نائب صدر نمبر ۳ محترمہ آمین کرام الله اور انصارہ اللہ کے نمونہ پر حضرت سیدہ صدر صاحبه لجنہ مرکزیہ نے لجنہ اماء الله صاحبہ مقرر ہوئیں۔ضلع کراچی کو کبھی 4 بڑی شاخوں میں تقسیم کر دیا۔ہر شاخ کو ایک قیادت جنرل سیکریٹری محترمہ نسیم سعید صاحبه کا نام دیا گیا اور اس کی ایک علیحدہ نگران مقرر کی گئی ہر نگر ان کے تحت نائبات : ۱- بشری سعادت صاحبه اس کی ایک علیحدہ عامہ بنائی گئی۔جب کہ ہر قیادت چند حلقہ جات پر مشتمل ایک یونٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔چنانچہ ایک طرف نگران اپنے علاقہ کی سربراہ ہونے کے علاوہ ضلع کی انتظامیہ کی ایک ممبر بھی ہوتی ہے اور اس کا تعلق براہ راست ضلعی صدر سے ہوتا ہے۔اور دوسری طرف وہ اپنے دائرہ کار میں مکمل اختیار اور کنٹرول بھی رکھتی ہے۔صدر ضلع اور سیکریٹر یان شعبہ ہر ماہ با قاعدہ ہو ہدایات مقامی اور مرکزی کاموں کے سلسلہ میں جاری کرتی ہیں وہ وصول کر کے اپنے ماتحت علاقہ میں ان پر عمل کروانا اور اپنی رپورٹ ماہانہ کارکردگی کے جائزہ کی شکل میں دفتر ضلع تک پہنچا نا نگر ان کا کام ہے۔جو ضروری پڑتال کے بعد مرکز بھیجوا دی جاتی ہیں۔جون 1943 ء میں یہ تنظیم تو عمل میں آئی تو بعض ضلعی عہدیداران میں بھی کچھ تبدیلی کی گئی۔جمیلہ عرفانی صاحبہ کی جگہ محترمہ نسیم سعید صاحب نئی جنرل سیکریٹری مقرر کی گئیں۔اس کے علاوہ ایک نئی نائب صدر محترمہ نصیرہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحبزادہ ظفر احمد صاحب منتخب کی گئیں تنظیم تو کے بعد اللہ کے فضل وکرم سے لجنہ میں ایک نئی زندگی اور شیر درج نظر آنے لگی۔اب ہر ماہ ایک میٹنگ نگرانات منعقد کی جانے لگی جس میں نظرانات شائستہ بیگم بنت فضل حق صاحب۔سیکریٹری مال سیدہ ہادی لطیف صاحبہ نائبه - محترمہ محمودہ بٹ صاحبہ بحران قیادت نمیرا اور محترمہ بیگم سید مسعید قالد صاحب قیادت میرا اور محترمہ امتہ الحفیظ بھٹی صاحب قیادت قبر محترمہ ظفر جہاں بیگم عبد الجبد بھٹی صاحب۔قیادت نمبر کی محترمہ بیگم سلطان طاہر صاحب قیادت نبره در محترمه گلزار بیگم آفتاب الجمل قیادت نمیر بار محترمہ امنه القدير فروت صاحبه سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر جماعتی تحریک پر بلند کراچی نے بھی حسب روایت لبیک کہا اور انتہائی مختصر وقت میں گیارہ ہزار ایک سے روپیہ جمع کیا۔ساڑھے پانچ ہزار گرم اور ٹھنڈے مستعملہ پارچہ جات۔بستر برتن جوتے اور ادویات کے علاوہ اجناس علیحدہ جمع کئے گئے۔ہو لجنہ مرکز یہ کی وساطت سے جماعتی متاثرین کے لئے پیش کئے گئے۔حسب وامیت جلسہ جات اور جلسہ ہائے سیرت النبی منعقد کئے گئے۔ماریشس سے تشریف لانے والی ایک احمدی خاتون بیگم قیادت شامل ہو کہ ہدایات حاصل کرتیں اور اسی میٹنگ میں اپنی رپوڑیں ہدایت سوفیہ کو استقبالیہ دیا گیا۔4 قیادتیں منظر ہو جانے سے مسابقت کی بھی ہمراہ لائیں۔مرکز سے آنے والے خطوط اور دیگر مواد کبھی انہیں اسی میٹنگ میں دے دیئے جاتے۔اس کے علاوہ ہر تیسری جمعرات کو ایک اجلاس عاملہ و عامہ بھی منعقد کیا جانے لگا۔جس میں تربیتی امور پر گفتگو کے علاوہ سیر بیریان کو کام سیکھنے کا موقع بھی ملنے لگا۔اء میں قیادتوں کے قیام کے علاوہ جو تبدیلی عاملہ میں کی گئی دہ روح بیدار ہوئی اور تمام شعبہ جات میں نمایاں بہتری کے آثار پیدا ہونے لگے۔سیده نسیم سعید صاحبہ صرف دس ما د کام کر سکیں اور انہیں اپنے شوہر کے تبادلہ کی وجہ سے کراچی سے باہر جانا پڑ گیا۔لبنانی جنرال سیکو میری محترمہ امتہ الحفیظ بھٹی صاحبہ کو مقرر کیا گیا۔بیگم مجیدہ شاہنوا نہ اس دفعہ ہے عرصہ کے لئے باہر تشریف لے جارہی تھیں۔محترمہ نصیرہ بیگم اہلیہ صاجزادہ ۱۰۲