المحراب — Page 83
لجنہ اماء الله ہزاروں درود و سلام ہوں اس مین الی اللہ علیہ تم پر تمام باتوں کے لئے کی خدمت میں میرات لجنہ اماء اللہ نے صدارت کی درخواست کی چنانچہ پہلا اجلاس رات لجسم بن کر آیا جس نے عورت کو اس کے پامال شدہ حقوق واپس دلوائے۔اور معاشرہ آپ کی صدارت میں شروع مہوا مگر دوران اجلاس ہی آپ نے میں اس کی معینی عزت کو قائم کیا۔لیکن مرور زمانہ کے بعد جب دنیا ایک بار پھر اس سین حضرت سیده ایم ناصراحه یک صدر نامزد فرما دیان تعلیم کو بھول گئی تب اللہ تعالی نے آپ ہی کے روحانی فرزند جلیل حضرت میں موجود آپ پر ، حضرت سیده ایم ناصراحمد ۱۹۱۲ تا سر جولائی سلامتی ہوم کو احیائے دین او قیام شریعیت کے لئے مبعوث فرمایا۔آپ نے جہاں عورت کو ۱۹۵۸ در تک صدر رہیں۔لیکن ۱۹۴۲ء نام ۱۹۴ ء ان کی بیماری کے دوران حضرت سیدہ اُس کے حقیقی منصب و مقام اور ذمہ داریوں سے روشناس کیا وہاں مردوں کے حقوق اتم طاہر احمد چندر رہیں۔اس کے بعد ماہ اگست ۱۹۵۸ ء سے حضرت سیدہ مریم صدیقہ صہ کی ادائیگی اور بیان می شین سلوک کی تلقین فرمائی۔اللہ تعالی کے فضل سے آپ کے زمانہ میں حرم سیدنا حضرت مصلح موعود صدر لجنه اما وا شدم مرکزیتی ہیں جو انتھک محنت سے تمام دنیا کی بجنات ہی ایک خاصی تعداد ایسی خواتین کی پیدا ہوچکی تھی جن کے دلوں میں علم فضل کی شمعیں روشن کی رہنمائی فرما رہی ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی صحت اور عمر میں برکت دے تا آپ کی قیادت میں الجنات کے قدم مزید تیز ہوں۔آمین بجنا را مرکزی کی ایک سیکرٹری سیده است الی صاحب تیم منتشر حضرت لی یا ان اصلی اور کا ایالات مصرف خواتین کے لئے نہاتے مصلح موجود تھیں۔ان کے بعد حضرت صالحہ بیگم صاحب الی حضرت میر محمد عنق صاحب حضرت ہی مبارک ثابت ہوا۔آپ نے مسند خلافت پر متمکن ہوتے کہا اس ضرورت کو شدت بیده او بیگم صاحب حرم حضرت مصلح موجود اور حضرت سیده ایم طاہر حضرت سیده ام متین صاحبہ ے محسوس کیا کہ جماعت کی ترقی عورتوں کی مجمع تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہو سکتی ہے چنانچہ نے بھی جنرل سیکرٹری کے فرائض ادا کئے۔اس اہم مقصد کی تکمیل کے لئے آپ نے ۲۵ دسمبر ۱۹۲۷ء کو احمدی مستورات کی مانگیر ہو چکی تھیں !! نا اللہ کے ہمہ گیر پروگراموں کوعلی جامہ پہنانے کے لئے درج ذیل تشبہ بابات تنظیم کی بنیاد رکھی۔حضور نے فرمایا : قائم کئے گئے ہیں :۔شعبہ اعتماد شعبہ تجنید شعبه تربیت تعلیم شعبه تبلیغ شعبه مال یاد رکھو ! کوئی دین ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ عورتیں ترقی نہ کریں میں اسلام شعبی قدم متسلق شعر صحت جسمانی - شعبه ضیافت شعب تحریک جدید - شعبہ وصیت اور شعبہ کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ میں ترقی کر و عورتیں کمرے کی چار دیواری میں سے دو دیواریں کیٹ پروگرام حجه الا اللہ کی تنظیم کے تحت خلفائے سلسلہ نے احمدی خواتین میں قربانی کا ہیں ، اگر کرے کی دیواریں گر جائیں تو کیا اس کمرے کی چھت قائم رہ سکتی ہے ؟ نہیں! ایانه پیداکردی که آن اندی خواتین مالی قربانی کے میدان میں صف اول میں نظر آتی ہیں بیان فصل ہرگز نہیں !! اخطاب حضرت مصلح موعود بر موقعه حیات الانه ۶۱۹۲۲ لندن بیت محمود این بیت نصرت جہاں ڈنمارک اور ہیں جنہ اماءاللہ کے مرکزی دفتر اسہال کی نیز فرمایا " ہماری پیدائش کی جو فرض و غایت ہے اس کو پورا کرنے کیلئے پر شوکت عمارت اور بیت النصرت لائبریری قادیان کی غیر احمدی مستورات کی بے دریغ مالیئے عورتوں کی کوشش کی بھی اسی طرح ضرورت ہے میں طرح مردوں کی ہے۔جہاں تک میرا قربانیوں کا نہ بولتا ثبوت ہے۔ان کے علاوہ بھی لائے سلسلہ کی طرف سے جاری ہونے والی ہر بارت خیال ہے عورتوں میں اب تک اس کا احساس پیدا نہیں ہوا کہ اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے؟؟ مالی تحریک میں بی احدی خواتین نے ہمیشہ نمایاں حصہ لیانگ ۱۹۳۵ء میں مجنہ اماء اللہ کے ایک ہماری زندگی کی طرح صرف ہونی چاہئیے جس سے ہم بھی للہ تعال کی رضا حاصل کر کے مرنے شبه ناصر المحمدیہ کا قیام مل میں آیاجس کے تحت ٹھ سے پندرہ سال تک کی ٹھرکی احمدی چوں کا این تیم تری کی بات ہے یا یکی یکی یکی میری یہ نیا خان سودام کے بعد بلکہ اس دنیا میں الہ تعالی کے فضلوں کے وارث ہوسکیں " اری خواتین کی تعظیم و صرف چودہ مبرات سے شروع ہوئی تھی آنا بفضلہ تعالی یک خان صاحب مقرر کی گئیں۔مانگیر تنظیم بن چکی ہے۔ابتدا مصرف قادیان میں جنہ اماء الہ کاقیام عمل میں آیاتھا۔اس کے بعد ۱۹۲۲ء سے آہستہ آہستہ ہندوستان کے مختلف شہروں اور دیہات اور پھر بیرونی ممالک میں بھی ان کی شاخیں قائم ہونی شروع ہو گئیں تقسیم ک تک اس تنظیم کا مرکزی دفتر بھی قادیان میں رہا۔جوتی کےبعد انتقال ہوگیا جس کے تحت بشمول پاکستان دنیا کے مال میں بند او الہ گرم عمل ہے۔لجنہ اماءاللہ کی پلی صدر حضرت سیدہ ام ناصر حم صاحبہ تھیں۔(سید امیری خلیفہ میں ثانی نے دار دسمبر ۱۹۳۲ و وب تنظیم قائم فرائی تو حضرت امان نصرت جہاں میرم ٩١