اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 94 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 94

۹۴ جل شانہ و عزاسمہ ہیں اُن کے یقین کو نو ز علی نور کیا جاتا ہے۔اور جس قدر انسان کی طبیعت تقاضا کرتی ہے کہ خدا کی یقینی شاعت کے لئے اس قدر معرفت چاہئے وہ معرفت قولی اور فعلی تحیلی سے پوری کی جاتی ہے۔یہاں تک کہ ایک ذرہ کے برابر بھی تاریکی درمیان نہیں رہتی۔یہ خدا ہے جس کے ان قولی فعلی تجلیات کے بعد جو ہزاروں انعامات اپنے اندر رکھتی ہیں اور نہایت قومی اثر دل پر کرتی ہیں انسان کو سچا اور زندہ ایمان نصیب ہوتا ہے اور ایک سچا اور پاک تعلق خدا سے ہو کر نفسانی غلاظتیں دُور ہو جاتی ہیں۔اور تمام کمزوریاں دُور ہو کر آسمانی روشنی کی تیز شعاعوں سے اندرونی تاریکی الوداع ہوتی ہے اور ایک عجیب تبدیلی ظہور میں آتی ہے۔پس جو مذہب اس خدا کو جس کا ان صفات سے متصف ہونا ثابت ہے پیش نہیں کرتا اور ایمان کو صرف گذشتہ قصوں کہانیوں اور ایسی باتوں تک محدود رکھتا ہے جو د یکھنے اور کہنے میں نہیں آئی ہیں وہ مذہب ہر گز سچا مذ ہب نہیں ہے۔اور ایسے فرضی خدا کی پیروی ایسی ہے کہ جیسے ایک مردہ سے توقع رکھنا کہ وہ زندوں جیسے کام کرے گا۔ایسے خدا کا ہونا نہ ہونا برابر ہے جو ہمیشہ تازہ طور پر اپنے وجود کو آپ ثابت نہیں کرتا گویاوہ ایک بت ہے جو نہ بولتا ہے اور نہ سنتا ہے اور نہ سوال کا جواب دیتا ہے اور نہ اپنی قادرانہ قوت کو ایسے طور پر دکھا سکتا ہے جو ایک پکار ہر یہ بھی اس میں شک نہ کر سکے۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۱، ۳۲) وسوسہ ہشتم۔انسان کوخدا کا ہم کلام تجویز کرنا ادب سے دُور ہے۔فانی کو ذات از لی ابدی سے کیا نسبت۔اور مشتِ خاک کو نور وجوب سے کیا مشابہت؟ جواب۔یہ وہم بھی سراسر بے اصل اور پوچ ہے۔اور اس کے قلع وقمع کے لئے انسان کو اسی بات کا سمجھنا کافی ہے کہ جس کریم اور رحمن نے افراد کا ملہء بنی آدم کے دل میں اپنی معرفت کے لئے بے انتہا جوش ڈال دیا اور ایسا اپنی محبت اور اپنی اُنس اور اپنے شوق