اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 93

۹۳ جل شانہ و عزاسمہ ہے ایسا ہی یقینی طور پر جو بکتی شک و شبہ سے پاک ہے اُن سے باتیں کرتا ہے اُن کی بات سنتا ہے اور اُس کا جواب دیتا ہے اور اُن کی دعاؤں کوشن کر دُعا کے قبول کرنے سے ان کو اطلاع بخشتا ہے اور ایک طرف لذیذ اور پر شوکت قول سے اور دوسری طرف معجزانہ فعل سے اور اپنے قوی اور زبردست نشانوں سے اُن پر ثابت کر دیتا ہے کہ میں ہی خدا ہوں۔وہ اوّل پیشگوئی کے طور پر اُن سے اپنی حمایت اور نصرت اور خاص طور کی دستگیری کے وعدے کرتا ہے اور پھر دوسری طرف اپنے وعدوں کی عظمت بڑھانے کے لئے ایک دنیا کو اُن کے مخالف کر دیتا ہے اور وہ لوگ اپنی تمام طاقت اور تمام مکر وفریب اور ہر ایک قسم کے منصوبوں سے کوشش کرتے ہیں کہ خدا کے اُن وعدوں کو ٹال دیں جو اس کے اُن مقبول بندوں کی حمایت اور نصرت اور غلبہ کے بارے میں ہیں اور خدا ان تمام کوششوں کو برباد کرتا ہے۔وہ شرارت کی تخم ریزی کرتے ہیں اور خدا اس کی جڑ باہر پھینکتا ہے۔وہ آگ لگاتے ہیں اور خدا اس کو بجھا دیتا ہے۔وہ ناخنوں تک زور لگاتے ہیں۔آخر خدا ان کے منصوبوں کو اُنہی پر اُلٹا کر مارتا ہے۔خدا کے مقبول اور راستباز نہایت سید ھے اور سادہ طبع اور خدا تعالیٰ کے سامنے اُن بچوں کی طرح ہوتے ہیں جو ماں کی گود میں ہوں اور دنیا اُن سے دشمنی کرتی ہے کیونکہ وہ دنیا میں سے نہیں ہوتے۔اور طرح طرح کے مکر اور فریب اُن کی بیخ کنی کے لئے کئے جاتے ہیں۔قومیں اُن کے ایذا دینے کے لئے متفق ہو جاتی ہیں۔اور تمام نا اہل لوگ۔ایک ہی کمان سے ان کی طرف تیر چلاتے ہیں اور طرح طرح کے افترا اور تہمتیں لگائی جاتی ہیں تاکسی طرح وہ ہلاک ہو جائیں اور ان کا نشان نہ رہے مگر آخر خدائے تعالیٰ اپنی باتوں کو پوری کر کے دکھلا دیتا ہے۔اسی طرح اُن کی زندگی میں یہ معاملہ اُن سے جاری رہتا ہے کہ ایک طرف وہ مکالمات صحیحہ واضحہ یقینیہ سے مشرف کئے جاتے ہیں اور امور غیبیہ جن کا علم انسانوں کی طاقت سے باہر ہے اُن پر خدائے کریم و قدیر اپنے صریح کلام کے ذریعہ سے منکشف کرتا رہتا ہے اور دوسری طرف معجزانہ افعال سے جو اُن اقوال کو سچ کر کے دکھلاتے