اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 92

۹۲ جل شانہ و عزاسمہ آخر یہ رائے ہماری کہ کوئی اندر ہے بدل جائے گی اور یہ خیال کریں گے کہ اندر کوئی نہیں بلکہ کسی حکمت عملی سے اندر کی کنڈیاں لگائی گئی ہیں۔یہی حال ان فلاسفروں کا ہے جنہوں نے صرف فعل کے مشاہدہ پر اپنی معرفت کو ختم کر دیا ہے یا بڑی غلطی ہے جو خدا کو ایک مُردہ کی طرح جس کو قبر سے نکالنا صرف انسان کا کام ہے۔اگر خدا ایسا ہے جو صرف انسانی کوشش نے اُس کا پتہ لگایا ہے تو ایسے خدا کی نسبت ہماری سب اُمیدیں عبث ہیں۔بلکہ خدا تو وہی ہے جو ہمیشہ سے اور قدیم سے آپ اَنَا المَوجود کہہ کر لوگوں کو اپنی طرف بلاتا رہا ہے۔یہ بڑی گستاخی ہوگی کہ ہم ایسا خیال کریں کہ اس کی معرفت میں انسان کا احسان اس پر ہے۔اور اگر فلاسفر نہ ہوتے تو گویا وہ گم کا گم ہی رہتا۔اور یہ کہنا کہ خدا کیونکر بول سکتا ہے۔کیا اس کی زبان ہے؟ یہ بھی ایک بڑی بے باکی ہے۔کیا اُس نے جسمانی ہاتھوں کے بغیر تمام آسمانی اجرام اور زمین کو نہیں بنایا۔کیا وہ جسمانی آنکھوں کے بغیر تمام دنیا کو نہیں دیکھتا۔کیا وہ جسمانی کانوں کے بغیر ہماری آوازیں نہیں سنتا۔پس کیا یہ ضروری نہ تھا کہ اسی طرح وہ کلام بھی کرے۔یہ بات بھی ہر گز صحیح نہیں ہے کہ خدا کا کلام کرنا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے۔ہم اس کے کلام اور مخاطبات پر کسی زمانہ تک مہر نہیں لگاتے۔بے شک وہ اب بھی ڈھونڈنے والوں کو الہامی چشمہ سے مالا مال کرنے کو طیار ہے جیسا کہ پہلے تھا۔اور اب بھی اس کے فیضان کے ایسے دروازے کھلے ہیں جیسے کہ پہلے تھے۔ہاں ضرورتوں کے ختم ہونے پر شریعتیں اور حدود ختم ہو گئیں اور تمام رسالتیں اور نبوتیں اپنے آخری نقطہ پر آ کر جو ہمارے سید ومولی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا کمال کو پہونچ گئیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۶۳ تا ۳۶۷) حقیقی خدا دانی تمام اسی میں منحصر ہے کہ اُس زندہ خدا تک رسائی ہو جائے کہ جو اپنے مقرب انسانوں سے نہایت صفائی سے ہم کلام ہوتا ہے اور اپنی پر شوکت اور لذیذ کلام سے اُن کو تسلی اور سکینت بخشتا ہے۔اور جس طرح ایک انسان دوسرے انسان سے بولتا