اللہ تعالیٰ — Page 87
۸۷ جل شانہ و عزاسمہ اپنے وجود سے پہلے موجود نہیں ہوسکتی۔ورنہ تقدم الشئ على نفسہ لازم آتا ہے۔بلکہ خدائے تعالیٰ جو اپنی ذات کا علم کامل رکھتا ہے تو اس جگہ عالم اور علم اور معلوم ایک ہی شے ہے جس میں علیحدگی اور دوئی کی گنجائش نہیں تو پھر اس جگہ وہ الگ چیز کون سی ہے جس کو مخلوق ٹھہرایا جائے سوذاتی علم خدائے تعالیٰ کا جو اس کی ذات سے تعلق رکھتا ہے دوسری چیزوں پر اس کا قیاس نہیں کر سکتے۔غرض علم ذاتی باری تعالیٰ میں جو اس کی ذات سے متعلق ہے عالم اپنے معلوم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے تا ایک خالق اور مخلوق قرار دیا جاوے۔ہاں اس کے وجود میں بجائے مخلوق کہنے کے یہ کہنا چاہئے کہ وہ وجود کسی دوسرے کی طرف سے مخلوق نہیں بلکہ ازلی ابدی طور پر اپنی طرف سے آپ ہی ظہور پذیر ہے اور خدا ہونے کے بھی یہی معنے ہیں کہ خود آئندہ ہے۔دوسرا ٹکڑا اعتراض کا کہ تقریر مذکورہ بالا سے خدائے تعالیٰ کا اپنی مثل بنانے پر قادر ہونا لازم آتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قدرت الہی صرف اُن چیزوں کی طرف رجوع کرتی ہے جو اس کی صفات از لیہ ابدیہ کی منافی اور مخالف نہ ہوں بے شک یہ بات تو صحیح اور ہر طرح سے مدلل اور معقول ہے کہ جس چیز کا علم خدائے تعالیٰ کو کامل ہو اس چیز کو اگر چاہے تو پیدا بھی کر سکتا ہے لیکن یہ بات ہرگز صحیح اور ضروری نہیں کہ جن باتوں کے کرنے پر وہ قادر ہو اُن سب باتوں کو بلا لحاظ اپنی صفات کمالیہ کے کر کے بھی دکھاوے بلکہ وہ اپنی ہر ایک قدرت کے اجراء اور نفاذ میں اپنی صفات کمالیہ کا ضرور لحاظ رکھتا ہے کہ آیا وہ امر جس کو وہ اپنی قدرت سے کرنا چاہتا ہے اُس کی صفات کا ملہ سے منافی و مبائن تو نہیں۔مثلاً وہ قادر ہے کہ ایک بڑے پر ہیز گار صالح کو دوزخ کی آگ میں جلا وے۔لیکن اس کے رحم اور عدل اور مجازات کی صفت اس بات کی منافی پڑی ہوئی ہے کہ وہ ایسا کرے۔اس لئے وہ ایسا کام کبھی نہیں کرتا۔ایسا ہی اس کی قدرت اس طرف میں رجوع نہیں کرتی کہ وہ اپنے تیں ہلاک کرے۔کیونکہ یہ فعل اس کی صفت حیات ازلی ابدی کی منافی ہے۔پس اسی