اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 86

۸۶ جل شانہ و عزاسمہ زیادہ تر نزدیک ہیں ایسا ہی اس نے قرآن شریف میں ایک دوسری جگہ فرمایا ہے۔هُوَ الْحَی الْقَيُّومُ یعنی حقیقی حیات اسی کو ہے اور دوسری سب چیزیں اس سے پیدا اور اُس کے ساتھ زندہ ہیں۔یعنی در حقیقت سب جانوں کی جان اور سب طاقتوں کی طاقت وہی ہے۔۔اگر رُوح کومخلوق اور حادث تسلیم نہ کیا جائے تو اس بات کے تسلیم کرنے کے لئے کوئی وجہ نہیں کہ ایک بے تعلق شخص جو فرضی طور پر پر میشر کے نام سے موسوم ہے رُوح کی حقیقت سے کچھ اطلاع رکھتا ہے اور اس کا علم اس کی تہ تک پہنچا ہوا ہے کیونکہ جوشخص کسی چیز کی نسبت پورا پورا علم رکھتا ہے تو البتہ اس کے بنانے پر بھی قادر ہوتا ہے اور اگر قادر نہیں ہو سکتا تو اس کے علم میں ضرور کوئی نہ کوئی نقص ہوتا ہے اور اگر پور اعلم نہ ہو توقطع نظر بنانے سے متشابہ چیزوں میں باہم امتیاز کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔سواگر خدائے تعالی خالق الاشیاء نہیں تو اس میں صرف یہی نقص نہیں ہے کہ اس صورت میں وہ ناقص العلم ٹھہرا بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ کروڑ ہا روحوں کے امتیاز اور تمیز اور شناخت میں روز بروز دھو کے بھی کھایا کرے اور بسا اوقات زید کی رُوح کو بکر کی رُوح سمجھ بیٹھے کیونکہ ادھورے علم کو ایسے دھو کے ضرور لگ جایا کرتے ہیں اور اگر کہو کہ نہیں لگتے تو اس پر کوئی دلیل پیش کرنی چاہئے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۱ ۲ تا ۲۲۶ حاشیه ) شائد کسی دل کو اس جگہ یہ وسوسہ پکڑے کہ اگر کسی شے پر پورا پورا علمی احاطہ ہونے سے وہ شے مخلوق ہو جاتی ہے تو علم حق سبحانہ تعالیٰ جو اپنی ذات سے متعلق ہے وہ بھی بہر حال کامل ہے۔تو کیا خدائے تعالیٰ اپنی ذات کا آپ خالق ہے یا اپنی مثل بنانے پر قادر ہے؟ اس میں اعتراض کے پہلے ٹکڑے کا تو یہ جواب ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے وجود کا آپ خالق ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ اپنے وجود سے پہلے موجود ہو۔اور ظاہر ہے کہ کوئی شے البقرة : ۲۵۶