اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 85

۸۵ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ باتیں ایسی باہم قریب واقع ہیں کہ ان میں ایک بال کا فرق نہیں ۔ سو ایسا ہی جمیع موجودات کے بارہ میں خدا تعالیٰ کا علم ہونا ضروری ہے۔ یعنی اس جگہ بھی عالم اور معلوم میں ایک ذرہ فرق اور فاصلہ نہیں چاہئے ۔ اور یہ اعلیٰ درجہ علم کا جو باری تعالیٰ کو اپنے تحقق الوہیت کے لئے اس کی ضرورت ہے اسی حالت میں اس کے لئے مسلم ہو سکتا ہے کہ جب پہلے اُس کی نسبت یہ مان لیا جائے کہ اس میں اور اس کے معلومات میں اس قدر قرب اور تعلق واقع ہے جس سے بڑھ کر تجویز کرنا ممکن ہی نہیں اور یہ کامل تعلق معلومات سے اسی صورت میں اس کو ہو سکتا ہے کہ جب عالم کی سب چیزیں جو اس کی معلومات ہیں اس کے دست قدرت سے نکلی ہوں اور اس کی پیدا کردہ اور مخلوق ہوں اور اُس کی ہستی سے اُن کی ہستی ہو۔ یعنی جب ایسی صورت ہو کہ موجود حقیقی وہی ایک ہوا اور دوسرے سب وجود اس سے پیدا ہوئے ہوں ۔ اور اس کے ساتھ قائم ہوں۔ یعنی پیدا ہو کر بھی اپنے وجود میں اس سے بے نیاز اور اس سے الگ نہ ہوں بلکہ در حقیقت سب چیزوں کے پیدا ہونے کے بعد بھی زندہ حقیقی وہی ہو۔ اور دوسری ہر ایک زندگی اسی سے پیدا ہوا ، زندگی اسی سے پیدا ہوئی ہو۔ اور اس کے ساتھ قائم لے ساتھ قائم ہو۔ اور بے قید حقیقی وہی ایک ہو اور دوسری سب چیزیں کیا ارواح اور کیا اجسام اُس کی لگائی ہوئی قیدوں میں مقید اور اس کے ہاتھ کے بندوں سے بندھے ہوئے اور اس کی مقرر کردہ حدوں میں محدود ہوں اور وہ ہر چیز پر محیط ہو اور دوسری سب چیزیں اس کی ربوبیت کے نیچے احاطہ کی گئی ہوں اور کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے ہاتھ سے نہ نکلی ہو۔ اور اس کی ربوبیت کا اس پر احاطہ نہ ہو۔ یا اُس کے سہارے سے وہ چیز قائم نہ ہو۔ غرض اگر ایسی صورت ہو تب خدائے تعالیٰ کا تعلق تام جو علم تام کے لئے شرط ہے اپنے معلومات سے ہوگا ۔ اسی تعلق تام کی طرف اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن شریف میں اشارہ فرمایا جیسے وہ فرماتا ہے۔ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ یعنی ہم انسان کی جان سے اس کی رگِ جان سے بھی ۱۷: