اللہ تعالیٰ — Page 79
۷۹ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ Π کیونکہ انصاف حق کو چاہتا ہے اور وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہو چکا ہے۔ اسی طرح انسان نے جو اپنے مالک حقیقی کے کے مقام مقابل پر اپنا نام بندہ رکھا یا اور اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ رَاجِعُ - کا اقرار کیا۔ یعنی ہمارا مال ، جان ، بدن ، اولا د سب خدا کی ملک ہے تو اس اقرار کے بعد اس کا کوئی حق نہ رہا جس کا وہ خدا سے مطالبہ کرے اسی وجہ سے وہ لوگ جو در حقیقت عارف ہیں باوجود صد با مجاہدات اور عبادات اور خیرات کے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کے رحم پر چھوڑتے ہیں اور اپنے اعمال کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتے اور کوئی دعوی نہیں کرتے کہ ہمارا کوئی حق ہے یا ہم کوئی حق بجالائے ہیں کیونکہ در حقیقت نیک وہی ہے جس کی توفیق سے کوئی انسان نیکی کر سکتا ہے اور وہ صرف خدا ہے۔ پس انسان کسی اپنی ذاتی لیاقت اور ہنر کی وجہ سے خدا تعالیٰ سے انصاف کا مطالبہ ہرگز نہیں کر سکتا۔ قرآن شریف کی رو سے خدا کے کام سب مالکانہ ہیں جس طرح کبھی وہ گناہ کی سزا دیتا ہے۔ ایسا ہی وہ کبھی گناہ کو بخش بھی دیتا ہے۔ یعنی دونوں پہلوؤں پر اس کی قدرت نافذ ہے۔ جیسا کہ مقتضائے مالکیت ہونا چاہئے اور اگر وہ ہمیشہ گناہ کی سزا دے تو پھر انسان کا کیا ٹھکانہ ہے بلکہ اکثر وہ گناہ بخش دیتا ہے اور تنبیہ کی غرض سے کسی گناہ کی سزا بھی دیتا ہے تا غافل انسان متنبہ ہو کر اس کی طرف متوجہ ہو جیسا کہ قرآن شریف میں یہ آیت ہے ۔ وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُوا عَن كَثِير ) دیکھو سورۃ الشوریٰ ( ترجمہ ) اور جو کچھ تمہیں کچھ مصیبت پہنچتی ہے پس تمہاری بداعمالی کے سبب سے ہے اور خدا بہت سے گناہ بخش دیتا ہے اور کسی گناہ کی سزا دیتا ہے۔ اور پھر اسی سورۃ میں یہ آیت بھی ہے وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيِّاتِ یعنی تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں اُن کو معاف کر دیتا ہے۔ کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے۔ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَة لا یعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا ت البقره: ۱۵۷ الشورای : ۳۱ الشورای : ۲۶ الزلزال : ۹