اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 74

۷۴ جل شانہ و عزاسمہ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمُنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُم بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبَّكَ خَيْرٌ مِّهَا يَجْمَعُونَ - الجزو نمبر ۲۵۔یعنی کفار کہتے ہیں کہ یہ قرآن مکہ اور طائف کے بڑے بڑے مال داروں اور رئیسوں میں سے کسی بھاری رئیس اور دولتمند پر کیوں نازل نہ ہوا تا اس کی رئیسانہ شان کے شایان ہوتا۔اور نیز اس کے رعب اور سیاست اور مال خرچ کرنے سے جلد تر دین پھیل جاتا۔ایک غریب آدمی جس کے پاس دنیا کی جائیداد میں سے کچھ بھی نہیں کیوں اس عہدہ سے ممتاز کیا گیا؟ ( پھر آگے بطور جواب فرمایا ) آهُمْ يَقْسِمُونَ رحمت ربك۔کیا قسام ازل کی رحمتوں کا تقسیم کرنا ان کا اختیار ہے یعنی یہ خداوند حکیم مطلق کا فعل ہے کہ بعضوں کی استعدادیں اور ہمتیں پست رکھیں اور وہ زخارف دنیا میں پھنسے رہے۔اور رئیس اور امیر اور دولتمند کہلانے پر پھولتے رہے اور اصل مقصود کو بھول گئے اور بعض کو فضائل روحانیت اور کمالات قدسیہ عنایت فرمائے اور وہ اس محبوب حقیقی کی محبت میں محو ہو کر مقرب بن گئے اور مقبولانِ حضرت احدیت ہو گئے۔( پھر بعد اس کے اس حکمت کی طرف اشارہ فرمایا کہ جو اس اختلاف استعدادات اور تباین خیالات میں مخفی ہے ) تخرج قَسَمْنَا بَيْنَهُم مَّعِيشَتَهُمْ الخ۔یعنی ہم نے اس لئے بعض کو دولتمند اور بعض کو درویش اور بعض کو لطیف طبع اور بعض کو کثیف طبع اور بعض طبیعتوں کو کسی پیشہ کی طرف مائل اور بعض کو کسی پیشہ کی طرف مائل رکھا ہے تا اُن کو یہ آسانی پیدا ہو جائے کہ بعض کے لئے بعض کار برار اور خادم ہوں اور صرف ایک پر بھار نہ پڑے۔اور اس طور پر مہمات بنی آدم بآسانی تمام چلتے رہیں۔اور پھر فرمایا کہ اس سلسلہ میں دنیا کے مال و متاع کی نسبت خدا کی کتاب کا وجود زیادہ تر نفع رساں ہے۔یہ ایک لطیف اشارہ ہے جو ضرورتِ الہام کی طرف فرمایا۔تفصیل اس کی یہ ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے اور بجز ایک دوسرے کی مدد کے کوئی امراس کا الزخرف : ۳۲، ۳۳