اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 73

۷۳ جل شانہ و عزاسمہ خدا پر حق واجب نہیں۔یہ تو صرف اس کا فضل ہے۔اسے اختیار ہے جس پر چاہے کرے اور جس پر چاہے نہ کرے۔مثلاً تم کو خدا نے آدمی بنایا اور گدھے کو آدمی نہ بنایا۔تم کو عقل دی اور اس کو نہ دی یا تمہارے لئے علم حاصل ہوا اور اس کو نہ ہوا۔یہ سب مالک کی مرضی کی بات ہے کوئی ایسا حق نہیں کہ تمہارا تھا اور اُس کا نہ تھا۔غرض جس حالت میں خدا کی مخلوقات میں صریح تفاوت مراتب پایا جاتا ہے جس کے تسلیم کرنے سے کسی عاقل کو چارہ نہیں تو کیا مالک با اختیار کے سامنے ایسی مخلوقات جن کا موجود ہونے میں بھی کوئی حق نہیں چہ جائیکہ بڑا بنے میں کوئی حق ہو کچھ دم مارسکتی ہے۔خدائے تعالیٰ کا بندوں کو خلعت وجود بخشنا ایک عطا اور احسان ہے اور ظاہر ہے کہ معطی وحسن اپنی عطا اور احسان میں کمی بیشی کا اختیار رکھتا ہے اور اگر اس کو کم دینے کا اختیار نہ ہو تو پھر زیادہ دینے کا بھی اختیار نہ ہو۔تو اس صورت میں وہ مالکانہ اختیارات کے نافذ کرنے سے بالکل قاصر رہ جائے اور خود ظاہر ہے کہ اگر مخلوق کا خالق پر خواہ نخواہ کوئی حق قرار دیا جائے تو اس سے تسلسل لازم آتا ہے کیونکہ جس درجہ پر خالق کسی مخلوق کو بنائے گا اسی درجہ پر وہ مخلوق کہہ سکتا ہے کہ میر احق اس سے زیادہ ہے۔اور چونکہ خدائے تعالیٰ غیر متناہی مراتب پر بنا سکتا ہے۔اور اس کی لا انتہا قدرت کے آگے صرف آدمی بنانے پر فضیلت پیدائش ختم نہیں تو اس صورت میں سلسلۂ سوالات مخلوق کبھی ختم نہ ہوگا اور ہر یک مرتبہ پیدائش پر الی غیر النھایت اس کو اپنے حق کے مطالبہ کا استحقاق حاصل ہوگا اور یہی تسلسل ہے۔ہاں اگر یہ جستجو ہے کہ اس تفاوت مراتب رکھنے میں حکمت کیا ہے توسمجھنا چاہئے کہ اس بارہ میں قرآن شریف نے تین حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔جو عند العقل نہایت بدیہی اور روشن ہیں جن سے کوئی عاقل انکار نہیں کر سکتا۔اور وہ یہ تفصیل ذیل ہیں۔اول یہ کہ تا مہمات دنیا یعنی امور معاشرت با حسن وجہ صورت پذیر ہوں جیسا فرمایا ہے۔وَقَالُوا لَوْلَا نُزِلَ هَذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ أَهُمْ