اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 72

۷۲ جل شانہ و عزاسمہ آتا ہے اور عجیب طور پر اس کی حد بندی مشاہدہ ہوتی ہے۔ان کیڑوں کی مقدار سے لے کر جو بغیر دور بین کے دکھائی نہیں دے سکتے ان بڑی بڑی مچھلیوں کی مقدار تک جو ایک بڑے جہاز کو بھی چھوٹے سے لقمہ کی طرح نگل سکتی ہیں حیوانی اجسام میں ایک عجیب نظارہ حد بندی کا نظر آتا ہے۔کوئی جانور اپنے جسم کی رُو سے اپنی حد سے باہر نہیں جاسکتا ایسا ہی وہ تمام ستارے جو آسمان پر نظر آتے ہیں اپنی اپنی حد سے باہر نہیں جا سکتے۔پس یہ حد بندی دلالت کر رہی ہے کہ در پردہ کوئی حد باندھنے والا ہے۔یہی معنی اس مذکورہ بالا آیت کے ہیں کہ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا۔اب واضح ہو کہ جیسا کہ یہ حد بندی اجسام میں پائی جاتی ہے۔ایسا ہی یہ حد بندی ارواح میں بھی ثابت ہے۔تم سمجھ سکتے ہو کہ جس قدر انسانی روح اپنے کمالات ظاہر کر سکتا ہے۔یا یوں کہو کہ جس قدر کمالات کی طرف ترقی کر سکتا ہے وہ کمالات ایک ہاتھی کی روح کو با وجود ضخیم اور جسیم ہونے کے حاصل نہیں ہو سکتے۔اسی طرح ہر ایک حیوان کی رُوح بلحاظ اپنی قوتوں اور طاقتوں کے اپنے نوع کے دائرہ کے اندر محدود ہے اور وہی کمالات حاصل کر سکتے ہیں کہ جو اس کے نوع کے لئے مقرر اور مقدر ہیں۔پس جس طرح اجسام کی حد بندی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اُن کا کوئی حد باندھنے والا اور خالق ہے اسی طرح ارواح کی طاقتوں کی حد بندی اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ان کا بھی کوئی خالق اور حد باندھنے والا ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۷ تا ۱۹) اگر دل میں یہ وہم گذرتا ہو کہ خدا نے مختلف طبائع کیوں پیدا کیں اور کیوں سب کو ایسی قوتیں عنایت نہ فرمائیں جن سے وہ معرفتِ کاملہ اور محبت کاملہ کے درجہ تک پہنچ جاتے۔تو یہ سوال بھی خدا کے کاموں میں ایک فضول دخل ہے جو ہرگز جائز نہیں۔ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ تمام مخلوقات کو ایک ہی درجہ پر رکھنا اور سب کو اعلی کمالات کی قوتیں بخشنا الفرقان : ۳