اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 70

۷۰ جل شانہ و عزاسمہ اور کامل سوچ کے بعد ہرگز درست نہیں۔سناتن دھرم کا اصول جو اس کے مقابل پر پڑا ہوا ہے اس کو اگر چہ ویدانت کے بے جا مبالغہ نے بدشکل کر دیا ہے اور ویدانتیوں کی افراط نے بہت سے اعتراضات کا موقعہ دے دیا ہے تاہم اس میں سچائی کی ایک چمک ہے۔اگر اس عقیدے کو زوائد سے الگ کر دیا جائے تو ماحصل اس کا یہی ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز پرمیشر کے ہی ہاتھ سے نکلی ہے۔پس اس صورت میں تمام شبہات دور ہو جاتے ہیں اور ماننا پڑتا ہے کہ بموجب اصول سناتن دھرم کے وید کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ یہ تمام ارواح اور ذرات اجسام اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اور گن اور خاصیتیں خدا کی طرف سے ہیں۔نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۳۸۷) قرآن شریف نے ہمیں یہ سکھایا ہے کہ انسان مع اپنی رُوح اور تمام قوتوں اور ذرہ ذرہ وجود کے خدا کی مخلوق ہے۔جس کو اُس نے پیدا کیا۔لہذا قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے ہم خدا تعالیٰ کے خالص ملک ہیں اور اُس پر ہمارا کوئی بھی حق نہیں ہے جس کا ہم اُس سے مطالبہ کریں۔یا جس کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ ملزم ٹھہر سکے۔اس لئے ہم اپنے مقابل پر خدا کا نام منصف نہیں رکھ سکتے بلکہ ہم بالکل تہی دست ہونے کی وجہ سے اُس کا نام رحیم رکھتے ہیں۔غرض منصف کہنے کے اندر یہ شرارت مخفی ہے کہ گویا ہم اس کے مقابل پر کوئی حقوق رکھتے ہیں اور اُس حق کے ادا نہ کرنے کی صورت میں اس کو حق تلفی کی طرف منسوب کر سکتے ہیں۔لیکن قرآن شریف نے وید کی طرح بے وجہ اور محض زبردستی کے طور پر اللہ جلت (چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۶) شانہ کو تمام ارواح اور ہر ایک ذرہ ذرہ اجسام کا مالک نہیں ٹھہرایا۔بلکہ اُس کی ایک وجہ بیان کی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرا ۳ ( ترجمہ ) یعنی زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن میں ہے سب خدا تعالیٰ کی الحديد : ٣ ٣ الفرقان : ٣