اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 69

۶۹ جل شانہ و عزاسمہ کر رکھی تھیں جن میں بینائی کا نور پیدا ہو سکے۔پس اگر وہ طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر خدا کچھ بھی چیز نہیں۔کیونکہ بقول شخصے کہ گھی سنوارے سالنا بڑی بہو کا نام“۔اس بینائی کو وہ طاقتیں پیدا کرتی ہیں خدا کو اس میں کچھ دخل نہیں اور اگر ذرات عالم میں وہ طاقتیں نہ ہوتیں تو خدائی بے کا ررہ جاتی۔پس ظاہر ہے کہ خدائی کا تمام مدار اس پر ہے کہ اوس نے روحوں اور ذرات عالم کی تمام قوتیں خود پیدا کی ہیں اور کرتا ہے اور خود اُن میں طرح طرح کے خواص رکھے ہیں اور رکھتا ہے۔پس وہی خواص جوڑنے کے وقت اپنا کرشمہ دکھلاتے ہیں۔اور اسی وجہ سے خدا کے ساتھ کوئی موجد برابر نہیں ہوسکتا کیونکہ گوگوئی شخص ریل کا موجد ہو یا تار کا یا فوٹو گراف کا یا پریس کا یا کسی اور صنعت کا اس کو اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ ان قوتوں کا موجد نہیں جن قوتوں کے استعمال سے وہ کسی صنعت کو طیار کرتا ہے۔بلکہ یہ تمام موجد بنی بنائی قوتوں سے کام لیتے ہیں جیسا کہ انجن چلانے میں بھاپ کی طاقتوں سے کام لیا جاتا ہے۔پس فرق یہی ہے کہ خدا نے عصر وغیرہ میں یہ طاقتیں خود پیدا کی ہیں۔مگر یہ لوگ خود طاقتیں اور قوتیں پیدا نہیں کر سکتے۔پس جب تک خدا کو ذرات عالم اور ارواح کی تمام قوتوں کا موجد نہ ٹھہرایا جائے تب تک خدائی اُس کی ہر گز ثابت نہیں ہو سکتی اور اس صورت میں اس کا درجہ ایک معمار یا نجار یا حداد یا گلگو سے ہرگز زیادہ نہیں ہوگا۔یہ ایک بدیہی بات ہے جورڈ کے قابل (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۸۳، ۳۸۴) نہیں۔ہم اپنے کامل ایمان اور پوری معرفت سے یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ اصول آریہ سماجیوں کا ہرگز درست نہیں کہ ارواح اور ذرات اپنی تمام قوتوں کے ساتھ قدیم اور ا نادی اور غیر مخلوق ہیں۔اس سے تمام وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے جو خدا میں اور اوس کے بندوں میں ہے۔یہ ایک نیا اور مکروہ مذہب ہے جو پنڈت دیا نند نے پیش کیا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ وید سے کہاں تک اس مذہب کا تعلق ہے لیکن ہم اس پر بحث کرتے ہیں کہ یہ اصول جو آریہ سماجیوں نے اپنے ہاتھ سے شائع کیا ہے یہ عقل سلیم کے نزدیک کامل معرفت اور کامل غور