اللہ تعالیٰ — Page 68
۶۸ جل شانہ و عزاسمہ مگر اس کو سوچنا چاہئے کہ آفتاب سے جو ایک آتشی شیشی آگ حاصل کرتی ہے وہ آگ کچھ آفتاب میں سے کم نہیں کرتی۔ایسا ہی جو کچھ چاند کی تاثیر سے پھلوں میں فربہی آتی ہے وہ چاند کو بلا نہیں کر دیتی۔یہی خدا کی معرفت کا ایک بھید اور تمام نظام روحانی کا مرکز ہے کہ خدا کے کلمات سے ہی دنیا کی پیدائش ہے۔(نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲۳، ۴۲۴) جب میں ان بڑے بڑے اجرام کو دیکھتا ہوں اور اُن کی عظمت اور عجائبات پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ صرف ارادہ الہی سے اور اس کے اشارہ سے ہی سب کچھ ہو گیا تو میری رُوح بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ اے ہمارے قادر خدا تو کیا ہی بزرگ قدرتوں والا ہے۔تیرے کام کیسے عجیب اور وراء العقل ہیں۔نادان ہے وہ جو تیری قدرتوں سے انکار کرے اور احمق ہے وہ جو تیری نسبت یہ اعتراض پیش کرے کہ اس نے ان چیزوں کو کس مادہ سے بنایا؟ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲۵ حاشیه) خدا تعالیٰ جو ہمارا خدا کہلاتا ہے اُس کی خُدائی کی اصل حقیقت ہی یہی ہے کہ وہ ایک مبدء فیض وجود ہے جس کے ہاتھ سے سب وجودوں کا نمود ہے۔اُسی سے اس کا استحقاق معبودیت پیدا ہوتا ہے اور اسی سے ہم بخوشی دل قبول کرتے ہیں کہ اس کا ہمارے بدن و دل و جان پر قبضہ استحقاقی قبضہ ہے۔کیونکہ ہم کچھ بھی نہ تھے اسی نے ہم کو وجود بخشا۔پس جس نے عدم سے ہمیں موجود کیا وہ کامل استحقاق سے ہمارا مالک ہے۔شحنه حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۲۹،۴۲۸) اصل بات یہ ہے کہ خدا کی قدرت میں جو ایک خصوصیت ہے جس سے وہ خدا کہلاتا ہے وہ روحانی اور جسمانی قوتوں کے پیدا کرنے کی خاصیت ہے۔مثلاً جانداروں کے جسم کو جو اوس نے آنکھیں عطا کی ہیں اس کام میں اوس کا اصل کمال یہ نہیں ہے کہ اُس نے یہ آنکھیں بنا ئیں بلکہ کمال یہ ہے کہ اُس نے ذرّات جسم میں پہلے سے یہ پوشیدہ طاقتیں پیدا