اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 66

۶۶ جل شانہ و عزاسمہ اس بیان مذکورہ بالا کی تصویر دکھلانے کے لئے تخیلی طور پر ہم فرض کر سکتے ہیں کہ قیوم العالمین ایک ایسا وجود اعظم ہے جس کے بے شمار ہاتھ بے شمار پیر اور ہر یک عضو اس کثرت سے ہے کہ تعداد سے خارج اور لا انتہا عرض اور طول رکھتا ہے اور تندوے کی طرح اس وجود اعظم کی تاریں بھی ہیں جو صفحہ ہستی کے تمام کناروں تک پھیل رہی ہیں اور کشش کا کام دے رہی ہے یہ وہی اعضاء ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں عالم نام ہے۔جب قيوم عالم کوئی حرکت جزوی یا کلی کرے گا تو اس کی حرکت کے ساتھ اس کے اعضاء میں حرکت پیدا ہو جانا ایک لازمی امر ہو گا اور وہ اپنے تمام ارادوں کو انہیں اعضاء کے ذریعہ سے ظہور میں لائے گا نہ کسی اور طرح سے۔پس یہی ایک عام فہم مثال اس روحانی امر کی ہے کہ جو کہا گیا ہے کہ مخلوقات کی ہر یک جزو خدائے تعالیٰ کے ارادوں کی تابع اور اُس کے مقاصد مخفیہ کو اپنے خادمانہ چہرہ میں ظاہر کر رہی ہے۔اور کمال درجہ کی اطاعت سے اُس کے ارادوں کی راہ میں محو ہورہی ہے۔اور یہ اطاعت اس قسم کی ہرگز نہیں ہے جس کی صرف حکومت اور زبردستی پر بنا ہو بلکہ ہر یک چیز کو خدائے تعالیٰ کی طرف ایک مقناطیسی کشش پائی جاتی ہے اور ہر ایک ذرہ ایسا بالطبع اس کی طرف جھکا ہوا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک وجود کے متفرق اعضاء اُس وجود کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔پس درحقیقت یہی سچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ یہ تمام عالم اُس وجود اعظم کے لئے بطور اعضاء کے واقعہ ہے اور اسی وجہ سے وہ قیوم العالمین کہلاتا ہے کیونکہ جیسی جان اپنے بدن کی قیوم ہوتی ہے ایسا ہی وہ تمام مخلوقات کا قیوم ہے۔اگر ایسانہ ہوتا تو نظام عالم کا بالکل بگڑ جاتا۔ہر یک ارادہ اس قیوم کا خواہ وہ ظاہری ہے یا باطنی۔دینی ہے یا دنیوی اسی مخلوقات کے توسط سے ظہور پذیر ہوتا ہے اور کوئی ایسا ارادہ نہیں کہ بغیر ان وسائط کے زمین پر ظاہر ہوتا ہو۔یہی قدیمی قانونِ قدرت ہے کہ جوابتداء سے بندھا ہوا چلا آتا ہے۔توضیح مرام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۸۸ تا ۹۱)