اللہ تعالیٰ — Page 65
جل شانہ و عزاسمہ طور پر ہو تو جمیع موجودات کی حرکت کو مستلزم ہوتی ہے اور اگر بعض شیون کے لحاظ سے یعنی مجو ئی حرکت ہو تو اُسی کے موافق عالم کے بعض اجزاء میں حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے عز و جل کے ساتھ اُس کی تمام مخلوقات اور جمیع عالموں کا جو علاقہ ہے وہ اُس علاقہ سے مشابہ ہے جو جسم کو جان سے ہوتا ہے اور جیسے جسم کے تمام اعضاء رُوح کے ارادوں کے تابع ہوتے ہیں اور جس طرف رُوح جھکتی ہے اسی طرف وہ جھک جاتے ہیں۔یہی نسبت خدائے تعالیٰ اور اس کی مخلوقات میں پائی جاتی ہے۔اگر چہ میں صاحب فصوص کی طرح حضرت واجب الوجود کی نسبت یہ تو نہیں کہتا کہ خَلَقَ الْأَشْيَاءَ وَهُوَ عَيْنُهَا نگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ خَلَقَ الْأَشْيَاءَ وَهُوَ كَعَيْنِهَا هُذَا الْعَالَمُ كَصَرْحِ ثُمَرَّدٍ مِنْ قَوَارِيرَ وَمَا الطاقةُ العُظمى يَجْرِى تَحْتَهَا وَيَفْعَلُ مَا يُرِيدُ يُخَيَّلُ فِي عُيُوْنٍ قَاصِرَةٍ كَأَنَّهَا هُوَ - يَحْسَبُونَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُؤَتِرَاتٍ بِذَاتِهَا وَلَا مُؤَثِرَ إِلَّا هُوَ - حکیم مطلق نے میرے پر یہ راز سر بستہ کھول دیا ہے کہ یہ تمام عالم معہ اپنے جمیع اجزا کے اس علت العلل کے کاموں اور ارادوں کی انجام دہی کے لئے سچ مچ اس اعضاء کی طرح واقع ہے جو خود بخود قائم نہیں بلکہ ہر وقت اس روح اعظم سے قوت پاتا ہے۔جیسے جسم کی تمام قو تیں جان کی طفیل سے ہی ہوتی ہیں اور یہ عالم جو اس وجود اعظم کے لئے قائم مقام اعضاء کا ہے۔بعض چیزیں اس میں ایسی ہیں کہ گویا اس کے چہرہ کا نور ہیں جو ظاہری یا باطنی طور پر اس کے ارادوں کے موافق روشنی کا کام دیتی ہیں اور بعض ایسی چیزیں ہیں کہ گویا اس کے ہاتھ ہیں اور بعض ایسی ہیں کہ گویا اُس کے پیر ہیں اور بعض اس کے سانس کی طرح ہیں۔غرض یہ مجموعہ عالم خدائے تعالیٰ کے لئے بطور ایک اندام کے واقعہ ہے۔اور تمام آب و تاب اس اندام کی اور ساری زندگی اس کی اسی رُوح اعظم سے ہے جو اس کی قیوم ہے۔اور جو کچھ اس قیوم کی ذات میں ارادی حرکت پیدا ہوتی ہے وہی حرکت اس اندام کے کل اعضاء یا بعض میں جیسا کہ اُس قیوم کی ذات کا تقاضا ہو پیدا ہو جاتی ہے۔