اللہ تعالیٰ — Page 64
۶۴ جل شانہ و عزاسمہ ہے جو تجلیات ربوبیت سے بقدرت الہبی لوازم و خواص جدیدہ حاصل کر کے حدوث کے کامل رنگ سے رنگین ہو گئے ہیں اور در حقیقت یہ ایک ستر اُن اسرار خالقیت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آ سکتے اور عوام کے لئے سیدھا راہ سمجھنے کا یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کرنا چاہا وہ ہو گیا اور سب کچھ اسی کا پیدا کردہ اور اُسی کی مخلوق اور اُسی کے دست قدرت سے نکلا ہوا ہے۔لیکن عارفوں پر کشفی طور سے بعد مجاہدات یہ کیفیت حدوث کھل جاتی ہے اور نظر کشفی میں کچھ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام ارواح و اجسام کلمات اللہ ہی ہیں۔جو بحکمت کا ملہ الہی پیرایۂ حدوث ومخلوقیت سے متلبس ہو گئے ہیں۔مگر اصل محکم جس پر قدم مارنا اور قائم رہنا ضروری ہے یہ ہے کہ ان کشفیات و معقولات سے قدر مشترک لیا جائے یعنی یہ کہ خدائے تعالیٰ ہر یک چیز کا خالق اور محدث ہے اور کوئی چیز کیا ارواح اور کیا اجسام بغیر اس کے ظہور پذیر نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتی ہے کیونکہ کلام الہی کی عبارت اس جگہ در حقیقت زوالوجوہ ہے اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک چیز خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر و وجود پذیر ہوئی ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خود بخود ہے۔سواس قدر اعتقاد ابتدائی حالت کے لئے کافی ہے۔پھر آگے معرفت کے میدانوں میں سیر کرنا جس کو نصیب ہو گا اس پر بعد مجاہدات خود وہ کیفیت کھل جائے گی۔جیسا کہ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۷۳ تا ۱۷۵ حاشیه ) اس جگہ اس نکتہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ خدائے تعالیٰ جو علت العلل ہے جس کے وجود کے ساتھ تمام وجودوں کا سلسلہ وابستہ ہے جب وہ کبھی مربیانہ یا قاہرانہ طور پر کوئی جنبش اور حرکت ارادی کسی امر کے پیدا کرنے کے لئے کرتا ہے تو وہ حرکت اگر اتم اور اکمل العنكبوت:۷۰