اللہ تعالیٰ — Page 63
۶۳ جل شانہ و عزاسمہ فتوحات میں لکھتا ہے کہ ہمارے مکان پر ایک فلسفی اور کسی دوسرے کی خاصیت احراق آگ میں کچھ بحث ہو کر اس دوسرے شخص نے یہ عجیب بات دکھلائی کہ فلسفی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کوئلوں کی آگ میں جو ہمارے سامنے محجر میں پڑی ہوئی تھی ڈال دیا اور کچھ عرصہ اپنا اور فلسفی کا ہاتھ آگ پر رہنے دیا مگر آگ نے اُن دونوں ہاتھوں میں سے کسی پر ایک ذرا بھی اثر نہ کیا۔اور راقم اس رسالہ نے ایک درویش کو دیکھا کہ وہ سخت گرمی کے موسم میں یہ آیت قرآنی پڑھ کر وَإِذَا بَطَشُتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِيْنَ ] زنبور کو پکڑ لیتا تھا اور اُس کی نیش زنی سے بکلی محفوظ رہتا تھا اور خود اس راقم کے تجربہ میں بعض تاثیرات عجیبہ آیت قرآنی کی آچکی ہیں جن سے عجائبات قدرت حضرت باری جلشانہ معلوم ہوتے ہیں۔غرض یہ عجائب خانہ دنیا کا بے شمار عجائبات سے بھرا ہوا ہے۔جو دانا اور شریف حکیم گذرے ہیں انہوں نے اپنی چند معدود معلومات پر ہرگز ناز نہیں کیا اور وہ اس بات کو بہت بے شرمی اور گستاخی سمجھتے رہے ہیں کہ اپنے محدود تجربہ کا نام خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت رکھیں۔کیا جس نے یہ پُر بہار آسمان جو مہروماہ اور ستاروں کے چراغوں سے سج رہا ہے اور یہ رشک گلزار زمین جو رنگا رنگ مخلوقات سے آباد ہو رہی ہے بغیر ایک ذرہ مشقت اٹھانے کے صرف اپنے ارادہ سے پیدا کر دیا اس کی قدرتوں کا کوئی انتہا پاسکتا ہے؟ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۹۰ تا ۱۰۱) یہ ایک ستر ربوبیت ہے جو کلمات اللہ سے مخلوقات الہی پیدا ہو جاتی ہے اس کو اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہر ایک شخص ذہن نشین کر سکتا ہے۔چاہے اس طرح سمجھ لے کہ مخلوقات کلمات الہی کے اظلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلمات الہی ہی ہیں جو بقدرت الہی مخلوقیت کے رنگ میں آجاتے ہیں۔کلام الہی کی عبارت ان دونوں معنوں کے سمجھنے کے لئے وسیع ہے اور بعض مواضع قرآن کی ظاہر عبارت میں مخلوقات کا نام کلمات اللہ رکھا گیا الشعراء: ۱۳۱