اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 60

۶۰ جل شانہ و عزاسمہ ایسی ریر کا آلہ نہیں نکلا تھا کسی فلسفی کو معلوم تھا کہ عمل ٹرینس فیوژن آف بلڈ ( یعنی ایک انسان کا خون دوسرے انسان میں داخل کرنا ) قانون فطرت میں داخل ہے؟ بھلا اس فلاسفر کا نام لینا چاہئے جو الیکٹرک مشین یعنی بجلی کی کل نکلنے سے پہلے اس بجلی لگانے کے عمل کا قائل تھا ؟۔علامہ شارح قانون جو طبیب حاذق اور بڑا بھاری فلسفی ہے ایک جگہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے جو یونانیوں میں یہ قصے بہت مشہور ہیں جو بعض عورتوں کو جو اپنے وقت میں عفیفہ اور صالح تھیں بغیر صحبت مرد کے حمل ہو کر اولا د ہوئی ہے۔پھر علامہ موصوف بطور رائے کے لکھتا ہے کہ یہ سب قصے افتراء پر محمول نہیں ہو سکتے کیونکہ بغیر کسی اصل صحیح کے مختلف افراد اور مہذب قوموں میں ایسے دعاوی ہرگز فروغ نہیں پاسکتے۔ان سب قصوں کی نسبت گو کسی منکر کی کیسی ہی رائے ہو مگر صرف ان کے نادر الوقوع ہونے کی وجہ سے وہ سب کی سب رہ نہیں کی جاسکتی اور ان کے ابطال پر کوئی دلیل فلسفی قائم نہیں ہو سکتی۔۔۔۔اور علامہ موصوف نے اس مقام میں ایک تقریر بہت ہی عمدہ لکھی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اگر چہ سب انسان ایک نوع میں ہونے کی وجہ سے باہم مناسب الطبع واقعہ ہیں مگر پھر بھی اُن میں سے بعض کو نا در طور پر کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں خاص خاص طاقتیں یا کسی اعلیٰ درجہ کی قوتیں عطا ہوتی ہیں جو عام طور پر دوسروں میں نہیں پائی جاتیں جیسے مشاہدہ سے ثابت ہوا ہے کہ بعض نے حال کے زمانہ میں تین سو برس سے زیادہ عمر پائی ہے جو بطور خارق عادت ہے اور بعض کی قوت حافظہ یا قوت نظر ایسے کمال درجہ کو پہنچی ہے جو اس کی نظیر نہیں پائی گئی اور اس قسم کے لوگ بہت نادر الوجود ہوتے ہیں جو صد ہایا ہزاروں برسوں کے بعد کوئی فردان میں سے ظہور میں آتا ہے اور چونکہ عوام الناس کی نظر اکثر امور کثیر الوقوع اور متواتر الظہور پر ہوا کرتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ عام لوگوں کی نگاہ میں جو باتیں کثیر الوقوع اور متواتر الظہور ہوں وہ بطور قاعدہ یا قانون قدرت کے مانی جاتی ہیں اور انہی کی سچائی پر انہیں اعتماد ہوتا