اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 59

۵۹ جل شانہ و عزاسمہ طرح ضد نہ کریں کہ ہمارے مشاہدات سے خدائے تعالیٰ کا فعل ہر گز تجاوز نہیں کر سکتا۔میں سوچ میں ہوں کہ کیونکر ایسی چیزیں کامل اور قطعی طور پر مقیاس الصداقت یا میزان الحق ٹھہر سکتے ہیں جن کے اپنے ہی پورے طور کے انکشاف میں ابھی بہت سی منازل باقی ہیں اور اس پیچ در پیچ معمانے یاں تک حکماء کو حیران اور سرگردان کر رکھا ہے کہ بعض اُن میں سے حقائق اشیاء کے منکر ہی ہو گئے (منکرین حقائق کا وہی گروہ ہے جس کو سوفسطائی کہتے۔ہیں ) اور بعض اُن میں سے یہ بھی کہہ گئے کہ اگر چہ خواص اشیاء ثابت ہیں تا ہم دائمی طور پر ان کا ثبوت نہیں پایا جا تا۔پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔مگرممکن ہے کہ کسی ارضی یا سماوی تاثیر سے کوئی چشمہ پانی کا اس خاصیت سے باہر آ جائے۔آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔مگر ممکن ہے کہ ایک آگ بعض موجبات اندرونی یا بیرونی سے اس خاصیت کو ظاہر نہ کر سکے کیونکہ ایسی عجائب باتیں ہمیشہ ظہور میں آتی رہتی ہیں۔حکماء کا یہ بھی قول ہے کہ بعض تاثیرات ارضی یا سماوی ہزاروں بلکہ لاکھوں برسوں کے بعد ظہور میں آتی ہیں جو نا واقف اور بے خبر لوگوں کو بطور خارق عادت معلوم دیتی ہیں اور کبھی کبھی کسی کسی زمانہ میں ایسا کچھ ہوتارہتا ہے کہ کچھ عجائبات آسمان میں یا زمین میں ظاہر ہوتے ہیں جو بڑے بڑے فیلسوفوں کو حیرت میں ڈالتے ہیں۔اور پھر فلسفی لوگ اُن کے قطعی ثبوت اور مشاہدہ سے خیرہ اور متندم ہو کر کچھ نہ کچھ تکلفات کر کے طبعی یا ہیئت میں اُن کو گھسیڑ دیتے ہیں تا ان کے قانون قدرت میں کچھ فرق نہ آ جائے۔ایسا ہی یہ لوگ ادھر کے اُدھر لگا کر اور نئی باتوں کو کسی علمی قاعدہ میں جبراً دھنسا کر گزارہ کر لیتے ہیں۔جب تک پر دار مچھلی نہیں دیکھی گئی تھی تب تک کوئی فلسفی اس کا قائل نہ تھا اور جب تک متواتر دُم کے کٹنے سے دم کٹے کٹے پیدا نہ ہونے لگے تب تک اس خاصیت کا کوئی فلاسفر اقراری نہ ہوا اور جب تک بعض زمینوں میں کسی سخت زلزلہ کی وجہ سے کوئی ایسی آگ نہ نکلی کہ وہ پتھروں کو پگھلا دیتی تھی مگر لکڑی کو جلا نہیں سکتی تھی تب تک فلسفی لوگ ایسی خاصیت کا آگ میں ہونا خلاف قانون قدرت سمجھتے رہے۔جب تک