اللہ تعالیٰ — Page 58
۵۸ جل شانہ و عزاسمہ الہیہ پر ایسا محیط ہو گیا ہے کہ جو کچھ اس کے تجربہ سے باہر ہو وہ فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے۔میں جانتا ہوں کہ ایسا خیال بجز ایک بے شرم اور ابلہ آدمی کے کوئی دانشمند نہیں کرسکتا۔فلاسفروں میں سے جو واقعی نیک دانا اور بچے روحانی آدمی گذرے ہیں انہوں نے خود تسلیم کر لیا کہ ہمارے خیالات جو محدود اور منقبض ہیں خدا اور اس کے بے انتہا بھیدوں اور حکمتوں کی شناخت کا ذریعہ نہیں ہو سکتے۔یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہر یک چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی۔سواس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص اشیاء ختم نہیں ہوسکتی گو ہم ان پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں۔اگر ایک دانہ خشخاش کے خواص تحقیق کرنے کے لئے تمام فلاسفر اولین و آخرین قیامت تک اپنی دماغی قوتیں خرچ کریں تو کوئی عظمند ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ وہ ان خواص پر احاطہ تام کر لیں۔سو یہ خیال کہ اجرام علوی یا اجسام سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہو چکے ہیں اُسی قدر پر ختم ہیں۔اس سے زیادہ کوئی بے سمجھی کی بات نہیں۔اب خلاصہ اس تمام مقدمہ کا یہ ہے کہ قانون قدرت کوئی ایسی شے نہیں ہے کہ ایک حقیقت ثابت شدہ کے آگے ٹھہر سکے کیونکہ قانون قدرت خدائے تعالیٰ کے ان افعال سے مراد ہے جو قدرتی طور پر ظہور میں آئے یا آئندہ آئیں گے لیکن چونکہ ابھی خدائے تعالیٰ اپنی قدرتوں کے دکھلانے سے تھک نہیں گیا ہے اور نہ یہ کہ اب قدرت نمائی سے بے زور ہو گیا ہے یا سو گیا ہے یا کسی طرف کو کھسک گیا ہے یا کسی خارجی قاسر سے مجبور کیا گیا ہے اور مجبوراً آئندہ کے عجائب کاموں سے دستکش ہو گیا ہے اور ہمارے لئے وہی چندصدیوں کی کارگذاری (یا اس سے کچھ زیادہ سمجھ لو ) چھوڑ گیا ہے۔اس لئے ساری عقلمندی اور حکمت اور فلسفیت اور ادب اور تعلیم اسی میں ہے کہ ہم چند موجودہ مشہودہ قدرتوں کو جن میں ابھی صد ہا طور کا اجمال باقی ہے مجموعہ قوانین قدرت خیال نہ کر بیٹھیں اور اس پر نادان لوگوں کی