اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 57

جل شانہ و عزاسمہ فلسفی الطبع لوگوں کی یہ بڑی بھاری غلطی ہے کہ اؤل وہ قانونِ قدرت کو ایسا سمجھ بیٹھے ہیں جس کی من کل الوجوہ حد بست ہو چکی ہے اور پھر بعد اس کے جو امر نیا پیش آئے اس کو ہر گز نہیں مانتے۔اور ظاہر ہے کہ اس خیال کی بنا راستی پر نہیں ہے۔اور اگر یہی سچ ہوتا تو پھر کسی نئی بات کے ماننے کے لئے کوئی سبیل باقی نہ رہتا۔اور امور جدیدہ کا دریافت کرنا غیر ممکن ہو جاتا۔کیونکہ اس صورت میں ہر یک نیا فعل بصورت نقص قوانین طبعی نظر آئے گا۔اور اس کے ترک کرنے سے ناحق ایک جدید صداقت کو ترک کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔اگر کوئی صفحات تاریخ زمانہ میں واقعات سوانح عمری حکماء پر غور کرے تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ اُن کے خیالات کی ٹرین کتنی مختلف سڑکوں یا یہ کہ کس قدر متناقص چالوں پر چلی ہے اور کیسے داغ خجالت اور ندامت کے ساتھ ایک رائے کو دوسری رائے سے تبدیل کرتے آئے ہیں اور کیونکر انہوں نے ایک مدت دراز تک کسی بات کا انکار کر کے اور قانون قدرت سے اس کو باہر سمجھ کر آخر نہایت متند مانہ حالت میں اسی بات کو قبول کر لیا ہے سو اس تبدیل آراء کا کیا سبب تھا؟ یہی تو تھا کہ جو کچھ انہوں نے سمجھ رکھا تھا وہ ایک ظنی بات تھی جس کی مشاہدات جدیدہ نے تکذیب کی۔سوجن شکلوں اور حالتوں میں وہ مشاہدات جدیدہ جلوہ گر ہوئے انہی کے موافق اُن کی راؤں کی پڑی بدلتی اور الٹتی پلٹتی رہی۔اور جدھر تجارب جدیدہ کا رُخ پلٹتا رہا اُدھر ہی ان کے خیالات کی ہوائیں پلٹا کھاتی رہیں۔غرض فلسفیوں کے خیالات کی لگام ہمیشہ امورجدید الظہو ر کے ہاتھ میں رہی ہے اور اب بھی بہت کچھ اُن کی نظروں سے چھپا ہوا ہے جس کی نسبت اُمید کی جاتی ہے کہ وہ آئندہ ٹھوکریں کھا کھا کر اور طرح طرح کی رسوائیاں اٹھا اٹھا کر کسی نہ کسی وقت قبول کریں گے۔کیونکہ قوانین قدرت انسانی عقل کے دفتر میں ابھی تک ایسے منضبط نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں جن پر نظر کر کے نئی تحقیقاتوں سے نو امیدی ہو۔کیا کوئی عقلمند خیال کر سکتا ہے کہ انسان دنیا کے مکتب خانہ میں باوجودا اپنی اس قدر عمر قلیل کے تحصیل اسرار ازلی ابدی سے بکلی فراغت پاچکا ہے اور اب اس کا تجربہ عجائبات