اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 47

۴۷ جل شانہ و عزاسمہ کسی تکلف اور بناوٹ سے خدا کی طرف جھکا رہتا ہے اور اپنے تئیں ہر دم خدا سے مدد پانے کا محتاج دیکھتا ہے اور اس کی ان صفات کاملہ کے تصور سے یقین رکھتا ہے کہ وہ ضرور کامیاب ہوگا کیونکہ خدا کے فیض اور کرم اور جود کے بہت سے نمونے اس کا چشم دید مشاہدہ ہوتا ہے۔اس لئے اس کی دعا ئیں قوت اور یقین کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور اس کا عقدِ ہمت نہایت مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے اور آخر کار بمشاہدہ آلاء اور نعماء الہی کے نوریقین بہت زور کے ساتھ اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اس کی ہستی بکلی جل جاتی ہے اور باعث کثرت تصور عظمت اور قدرت الہی کے اُس کا دل خدا کا گھر ہو جاتا ہے اور جس طرح انسان کی رُوح اس کے زندہ ہونے کی حالت میں کبھی اُس کے جسم سے جدا نہیں ہوتی اسی طرح خدائے قادر ذوالجلال کی طرف سے جو یقین اس کے اندر داخل ہوا ہے وہ کبھی اس سے علیحدہ نہیں ہوتا اور ہر وقت پاک رُوح اس کے اندر جوش مارتی رہتی ہے اور اسی پاک رُوح کی تعلیم سے وہ بولتا اور حقائق اور معارف اس کے اندر سے نکلتے ہیں اور خدائے ذُو العِزّت والجبروت کی عظمت کا خیمہ ہر وقت اس کے دل میں لگا رہتا ہے اور یقین اور صدق اور محبت کی لذت ہر وقت پانی کی طرح اس کے اندر بہتی رہتی ہے جس کی آبپاشی سے ہر یک عضو اس کا سیراب نظر آتا ہے۔آنکھوں میں ایک جُدا سیرابی مشہور ہوتی ہے۔پیشانی پر الگ ایک نور اُس سیرابی کا لہراتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور چہرہ پر محبت الہی کی ایک بارش برستی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔اور زبان بھی اس نور کی سیرابی سے پورا حصہ لیتی ہے۔اسی طرح تمام اعضا پر ایک ایسی شگفتگی نظر آتی ہے جیسا کہ ابر بہار کے برسنے کے بعد موسم بہار میں ایک دلکش تازگی درختوں کی ٹہنیوں اور پتوں اور پھولوں اور پھلوں میں محسوس ہوتی ہے۔لیکن جس شخص میں یہ روح نہیں اتری اور یہ سیرابی اس کو حاصل نہیں ہوئی۔اس کا تمام جسم مردار کی طرح ہوتا ہے اور یہ سیرابی اور تازگی اور شگفتگی جس کی قلم تشریح نہیں کر سکتی یہ اُس مردار دل کومل ہی نہیں سکتی جس کو نوریقین کے چشمہ نے شاداب نہیں کیا بلکہ ایک طرح