اللہ تعالیٰ — Page 44
ママ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ شریک ہیں یا اسباب موجودہ ہی کافی ہیں تو اس وقت کہ تم اسلام کے دلائل حقیت اور اس کی شوکت اور قوت کے مقابلہ پر مقہور ہورہے ہو ان اپنے شرکاء کو مدد کے لئے بلاؤ اور یاد رکھو کہ وہ ہرگز تمہاری مشکل کشائی نہ کریں گے اور نہ بلا کو تمہارے سر پر سے ٹال سکیں گے۔ اے رسول ! ان مشرکین کو کہہ کہ تم اپنے شرکاء کو جن کی پرستش کرتے ہو میرے مقابلہ پر بلاؤ اور جو تدبیر میرے مغلوب کرنے کے لئے کر سکتے ہو وہ سب تدبیریں کرو اور مجھے ذرا مہلت مت دو اور یہ بات سمجھ رکھو کہ میرا حامی اور ناصر اور کارساز وہ خدا ہے جس نے قرآن کو نازل کیا ہے اور وہ اپنے سچے اور صالح رسولوں کی آپ کا رسازی کرتا ہے مگر جن چیزوں کو تم لوگ اپنی مدد کے لئے پکارتے ہو وہ ممکن نہیں ہے جو تمہاری مدد کر سکیں اور نہ کچھ اپنی مدد کر سکتے ہیں۔ پھر بعد اس کے خدا کا ہر یک نقصان اور عیب سے پاک ہونا قانون قدرت کے رو سے ثابت کیا اور فرمایا تُسَبِّحُ لَهُ السَّمُوتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ الخ یعنی ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے خدا کی تقدیس کرتے ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اُس کی تقدیس نہیں کرتی۔ پر تم اُن کی تقدیسوں کو سمجھتے نہیں۔ یعنی زمین آسمان پر نظر غور کرنے سے خدا کا کامل اور مقدس ہونا اور بیٹوں اور شریکوں سے پاک ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ مگر ان کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ پھر بعد اس کے جزئی طور پر مخلوق پرستوں کو ملزم کیا اور اُن کا خطا پر ہونا ظاہر فرمایا اور کہا قَالُوا التَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبْحَنَهُ هُوَ الْغَنِيُّ الخ ) یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا بیٹا رکھتا ہے۔ حالانکہ بیٹے کا محتاج ہونا ایک نقصان ہے اور خدا هر یک نقصان سے پاک ہے وہ تو غنی اور بے نیاز ہے جس کو کسی کی حاجت نہیں۔ جو کچھ آسمان وزمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔ کیا تم خدا پر ایسا بہتان لگاتے ہو جس کی تائید میں تمہارے پاس کسی نوع کا نوع کا علم نہیں ۔ ں ۔ خدا کیوں بیٹوں کا محتاج ہونے لگا۔ وہ کامل ہے اور فرائض الوہیت کے ادا کرنے کے لئے وہ ہی اکیلا کافی ہے کسی اور منصوبہ کی حاجت نہیں۔ بنی اسرائیل : ۴۵ یونس : ۱۶۹