اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 43

۴۳ جل شانہ و عزاسمہ عقلی چار قسم پر ہے۔کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔سو اس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ ء وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور بالک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ لعم يلد ہے یعنی اُس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لم یولد ت ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوا تا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔پھر بعد اس کے اُس کے وحدہ لاشریک ہونے پر ایک عقلی دلیل بیان فرمائی اور کہا۔لَوْ كَانَ فِيْهِمَا أَلِهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا وَمَا كَانَ مَعَهُ مِن إله الخ لقا یعنی اگر زمین آسمان میں بجز اس ایک ذات جامع صفات کا ملہ کے کوئی اور بھی خدا ہوتا تو وہ دونوں بگڑ جاتے کیونکہ ضرور تھا کہ کبھی وہ جماعت خدائیوں کی ایک دوسرے کے برخلاف کام کرتے۔پس اسی پھوٹ اور اختلاف سے عالم میں فساد راہ پاتا اور نیز اگر الگ الگ خالق ہوتے تو ہر واحد اُن میں سے اپنی ہی مخلوق کی بھلائی چاہتا اور اُن کے آرام کے لئے دوسروں کا بر باد کرنا روا رکھتا پس یہ بھی موجب فساد عالم ٹھہرتا۔یہاں تک تو دلیل لِمّی سے خدا کا واحد لا شریک ہونا ثابت کیا۔پھر بعد اس کے خدا کے وحدہ لاشریک ہونے پر دلیل انی بیان فرمائی اور کہا قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُوْنِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا الخ یعنی مشرکین اور منکرین وجود حضرت باری کو کہہ کہ اگر خدا کے کارخانہ میں کوئی اور لوگ بھی الاخلاص : ۳ تا ۵ تا الانبياء : ۲۳ قا المؤمنون: ۹۲ تا بنی اسرائیل: ۵۷