اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 42

۴۲ جل شانہ و عزاسمہ فرمایا۔لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ یعنی جبکہ عالم کے لئے نہ حیات حقیقی حاصل ہے نہ قیام حقیقی تو بالضرور اس کو ایک علت موجبہ کی حاجت ہے جس کے ذریعہ سے اس کو حیات اور قیام حاصل ہوا اور ضرور ہے کہ ایسی علت موجبہ جامع صفات کا ملہ اور مدبر بالا رادہ اور حکیم اور عالم الغیب ہو۔سو وہی اللہ ہے کیونکہ اللہ بموجب اصطلاح قرآن شریف کے اس ذات کا نام ہے جو تجمع کمالاتِ تامہ ہے۔اسی وجہ سے قرآن شریف میں اللہ کے اسم کو جمیع صفات کا ملہ کا موصوف ٹھہرایا ہے اور جابجا فرمایا ہے کہ اللہ وہ ہے جو کہ رب العالمین ہے۔رحمن ہے۔رحیم ہے مدبر بالا رادہ ہے۔حکیم ہے۔عالم الغیب ہے۔قادر مطلق ہے۔ازلی ابدی ہے وغیرہ وغیرہ۔سو یہ قرآن شریف کی ایک اصطلاح ٹھہر گئی ہے کہ اللہ ایک ذات جامع جمیع صفات کا ملہ کا نام ہے۔اسی جہت سے اس آیت کے سر پر بھی اللہ کا اسم لائے اور فرمایا اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ۔یعنی اس عالم بے ثبات کا قیوم ذات جامع الکمالات ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ عالم جس ترتیب محکم اور ترکیب ابلغ سے موجود اور مترتب ہے اس کے لئے یہ گمان کرنا باطل ہے کہ انہی چیزوں میں سے بعض چیزیں بعض کے لئے علت موجبہ ہوسکتی ہیں۔بلکہ اس حکیمانہ کام کے لئے جو سراسر حکمت سے بھرا ہوا ہے ایک ایسے صانع کی ضرورت ہے جو اپنی ذات میں مدتر بالا رادہ اور حکیم اور علیم اور رحیم اور غیر فانی اور تمام صفات کا ملہ سے متصف ہو۔سو وہی اللہ ہے جس کو اپنی ذات میں کمال تام حاصل ہے۔پھر بعد ثبوت وجود صانع عالم کے طالب حق کو اس بات کا سمجھانا ضروری تھا کہ وہ صانع ہر یک طور کی شرکت سے پاک ہے۔سواس کی طرف اشارہ فرما یا قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ۔الخ۔اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر ایک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا منزہ ہونا بیان فرمایا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت از روئے حصر الاخلاص : ۲