اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 34

۳۴ جل شانہ و عزاسمہ اور جان اور ہر یک روحانی اور بدنی قوت پر ایسا اکمل اور اپنی احاطہ رکھتی ہو کہ جس پر عقلاً اور خیالاً اور وہما زیادت متصور نہ ہو۔اور یہ عالم کہ جو ناقص الحقیقت اور مکمڈ رالصورت اور ہالکۃ الذات اور مشتبہ الکیفیت اور ضیق الظرف ہے ان تحبلیات عظمی اور انوار اصفی اور عطیات دائمی کی برداشت نہیں کر سکتا اور وہ آشِعَه تَامَه كَامِلہ دَائِمہ اس میں سانہیں سکتے۔بلکہ اس کے ظہور کے لئے ایک دوسرا عالم درکار ہے جو اسباب معتادہ کی ظلمت سے بکلی پاک اور منزہ اور ذات واحد قہار کی اقتدار کامل اور خالص کا مظہر ہے۔ہاں اس فیضانِ اخص سے ان کامل انسانوں کو اسی زندگی میں کچھ حظ پہنچتا ہے کہ جو سچائی کی راہ پر کامل طور پر قدم مارتے ہیں۔اور اپنے نفس کے ارادوں اور خواہشوں سے الگ ہو کر بکلی خدا کی طرف جھک جاتے ہیں۔کیونکہ مرنے سے پہلے مرتے ہیں اور اگر چہ بظا ہر صورت اس عالم میں ہیں لیکن درحقیقت وہ دوسرے عالم میں سکونت رکھتے ہیں۔پس چونکہ وہ اپنے دل کو اس دنیا کے اسباب سے منقطع کر لیتے ہیں اور عادات بشریت کو توڑ کر اور بیکبارگی غیر اللہ سے منہ پھیر کر وہ طریق جو خارق عادت ہے اختیار کر لیتے ہیں اس لئے خداوند کریم بھی اُن کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے اور بطور خارق عادت ان پر اپنے وہ انوار خاصہ ظاہر کرتا ہے کہ جو دوسروں پر بجز موت کے ظاہر نہیں ہو سکتے۔غرض بباعث امور متذکرہ بالا وہ اس عالم میں بھی فیضانِ آخص کے نور سے کچھ حصہ پالیتے ہیں۔اور یہ فیضان ہر یک فیض سے خاص تر اور خاتمہ تمام فیضانوں کا ہے اور اس کو پانے والا سعادت عظمی کو پہنچ جاتا ہے اور خوشحالی ، دائی کو پالیتا ہے کہ جو تمام خوشیوں کا سر چشمہ ہے اور جو شخص اس سے محروم رہاوہ ہمیشہ کے دوزخ میں پڑا۔اس فیضان کے رو سے خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں اپنا نام مَالِكِ يَوْمِ الدِّيین بیان فرمایا ہے۔دین کے لفظ پر الف لام لانے سے یہ غرض ہے کہ تا یہ معنے ظاہر ہوں کہ جزا سے مراد وہ کامل جزا ہے جس کی تفصیل فرقان مجید میں مندرج ہے۔اور وہ کامل جزا بجر بجتی مالکیت تامہ کے کہ جو ہدم بنیان اسباب کو مستلزم ہے ظہور میں نہیں آ سکتی۔