اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 33

٣٣ جل شانہ و عزاسمہ مترتب نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے ظہور اور بروز کے لئے اول شرط یہ ہے کہ یہ عالم اسباب کہ جو ایک تنگ و تاریک جگہ ہے بکلی معدوم اور منہدم ہو جائے اور قدرت کاملہ حضرت احدیت کے بغیر آمیزش اسباب معتادہ کے برہنہ طور پر اپنا کامل چمکا را دکھلاوے۔کیونکہ اس آخری فیضان میں کہ جو تمام فیوض کا خاتمہ ہے جو کچھ پہلے فیضانوں کی نسبت عند العقل زیادتی اور کمالیت متصور ہو سکتی ہے وہ یہی ہے کہ یہ فیضان نہایت منکشف اور صاف طور پر ہو اور کوئی اشتباہ اور خفا اور نقص باقی نہ رہے۔یعنی نہ مفیض کے بالا رادہ فیضان میں کوئی شبہ رہ جائے اور نہ فیضان کے حقیقی فیضان اور رحمت خالصہ اور کاملہ ہونے میں کچھ جائے کلام ہو بلکہ جس مالک قدیم کی طرف سے فیض ہوا ہے اس کی فیاضی اور جزا دہی روز روشن کی طرح کھل جائے۔اور شخص فیضیاب کو بطور حق الیقین یہ امر مشہود اور محسوس ہو کہ حقیقت میں وہ مالک الملک ہی اپنے ارادہ اور توجہ اور قدرت خاص سے ایک نعمت عظمیٰ اور لذت گبرای اُس کو عطا کر رہا ہے اور حقیقت میں اس کو اپنے اعمال صالحہ کی ایک کامل اور دائمی جزا کہ جو نہایت اصفی اور نہایت اعلیٰ اور نہایت مرغوب اور نہایت محبوب ہے مل رہی ہے۔کسی قسم کا امتحان اور ابتلا نہیں ہے اور ایسے فیضان اکمل اور اتم اور ابھی اور اعلیٰ اور اجلی سے متمتع ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ بندہ اس عالم ناقص اور مکۃ ر اور کثیف اور تنگ اور منقبض اور نا پائیدار اور مشتبہ الحال سے دوسرے عالم کی طرف انتقال کرے۔کیونکہ یہ فیضان تجلیات عظمیٰ کا مظہر ہے جن میں شرط ہے کہ محسن حقیقی کا جمال بطور عریاں اور بمرتبہ حق الیقین مشہور ہو اور کوئی مرتبہ شہود اور ظہور اور یقین کا باقی نہ رہ جائے اور کوئی پردہ اسباب معتادہ کا درمیان نہ ہو۔اور ہر یک دقیقہ معرفتِ تامہ کا مُكَمَن قُوَّت سے حَيْزِ فعل میں آ جائے اور نیز فیضان بھی ایسا منکشف اور معلوم الحقیقت ہو کہ اُس کی نسبت آپ خدا نے یہ ظاہر کر دیا ہو کہ وہ ہر یک امتحان اور ابتلا کی کدورت سے پاک ہے اور نیز اس فیضان میں وہ اعلیٰ اور اکمل درجہ کی لذتیں ہوں جن کی پاک اور کامل کیفیت انسان کے دل اور روح اور ظاہر اور باطن اور جسم