اللہ تعالیٰ — Page 32
جل شانہ و عزاسمہ طرف سے اول صفت رحمانیت ظہور میں آئی ہے۔پھر بعد اس کے صفت رحیمیت ظہور پذیر ہوئی۔پس اسی ترتیب طبعی کے لحاظ سے سورۃ فاتحہ میں صفت رحیمیت کو صفت رحمانیت کے بعد میں ذکر فرمایا اور کہا الرحمن الرحیم۔اور صفت رحیمیت کے بیان میں کئی مقامات قرآن شریف میں ذکر موجود ہے۔جیسا ایک جگہ فرمایا ہے۔وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيمًا - تا یعنی خدا کی رحیمیت صرف ایمان داروں سے خاص ہے جس سے کافر کو یعنی بے ایمان اور سرکش کو حصہ نہیں۔اس جگہ دیکھنا چاہئے کہ خدا نے کیسی صفت رحیمیت کو مومن کے ساتھ خاص کر دیا۔لیکن رحمانیت کو کسی جگہ مومنین کے ساتھ خاص نہیں کیا اور کسی جگہ یہ نہیں فرمایا کہ گان بِالْمُؤْمِنِينَ رَحْمَانًا۔بلکہ جو مومنین سے رحمت خاص متعلق ہے۔ہر جگہ اس کو رحیمیت کی صفت سے ذکر کیا ہے۔پھر دوسری جگہ فرمایا ہے إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ۔لتا یعنی رحیمیت الہی انہیں لوگوں سے قریب ہے جو نیکو کار ہیں پھر ایک اور جگہ فرمایا ہے اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَبِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِیمُ یعنی جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطنوں سے یا نفس پرستیوں سے جدائی اختیار کی اور خدا کی راہ میں کوشش کی وہ خدا کی رحیمیت کے امیدوار ہیں اور خدا غفور اور رحیم ہے۔یعنی اس کا فیضان رحیمیت ضرور اُن لوگوں کے شامل حال ہو جاتا ہے کہ جو اس کے مستحق ہیں۔کوئی ایسا نہیں جس نے اس کو طلب کیا اور نہ پایا۔عاشق که شد که یار بحالش نظر نہ کر اے خواجہ در دنیست و گرنه طبیب ہست [۳] چوتھا قسم فیضان کا فیضانِ اخص ہے۔یہ وہ فیضان ہے کہ جو صرف محنت اور سعی پر الاحزاب: ۴۴ تا الاعراف: ۵۷ تا البقرة :۲۱۹ کون عاشق بنا کہ محبوب نے اس کے حال پر توجہ نہ کی ہو۔حضرت در دہی نہیں ورنہ طبیب تو موجود ہے۔