اللہ تعالیٰ — Page 18
۱۸ جل شانہ و عزاسمہ اور یہ ذکر یعنی خدا کا اپنی صفات میں انسان سے بالکل علیحدہ ہونا قرآن شریف کی کئی آیات میں تصریح کے ساتھ کیا گیا ہے۔جیسا کہ ایک یہ آیت ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٍج وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ( یعنی کوئی چیز اپنی ذات اور صفات میں خدا کی شریک نہیں اور وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔اور پھر ایک جگہ فرمایا۔اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمَ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمْ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ ) ترجمه حقیقی وجود اور حقیقی بقا اور تمام صفات حقیقیہ خاص خدا کے لئے ہیں اور کوئی ان میں اس کا شریک نہیں۔وہی بذاتہ زندہ ہے اور باقی تمام زندے اُس کے ذریعے سے ہیں۔اور وہی اپنی ذات سے آپ قائم ہے اور باقی تمام چیزوں کا قیام اس کے سہارے سے ہے اور جیسا کہ موت اس پر جائز نہیں ایسا ہی ادنی درجہ کا تعطل حواس بھی جو نیند اور اونگھ سے ہے وہ بھی اس پر جائز نہیں مگر دوسروں پر جیسا کہ موت وارد ہوتی ہے نیند اور اونگھ بھی وارد ہوتی ہے۔جو کچھ تم زمین میں دیکھتے ہو یا آسمان میں وہ سب اُسی کا ہے اور اُسی سے ظہور پذیر اور قیام پذیر ہے۔کون ہے جو بغیر اس کے حکم کے اس کے آگے شفاعت کر سکتا ہے۔وہ جانتا ہے جو لوگوں کے آگے ہے اور جو پیچھے ہے یعنی اس کا علم حاضر اور غائب پر محیط ہے۔اور کوئی اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتا لیکن جس قدر وہ چاہے۔اس کی قدرت اور علم کا تمام زمین و آسمان پر تسلط ہے۔وہ سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔یہ نہیں کہ کسی چیز نے اس کو اُٹھا رکھا ہے۔اور وہ آسمان و زمین اور ان کی تمام چیزوں کے اٹھانے سے تھکتا نہیں اور وہ اس بات سے بزرگ تر ہے کہ ضعف و ناتوانی اور کم قدرتی اس کی طرف منسوب کی جائے۔اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي الشورى: ۱۲ البقرة: ۲۵۶