اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 17

۱۷ جل شانہ و عزاسمہ صفات استعارہ کے طریق پر مخلوق کی صفات کی ہم شکل ہیں۔جیسا کہ وہ کریم رحیم ہے۔محسن ہے اور وہ غضب بھی رکھتا ہے اور اُس میں محبت بھی ہے اور اس کے ہاتھ بھی ہیں اور اس کی آنکھیں بھی ہیں اور اس کی ساقین بھی ہیں اور اُس کے کان بھی ہیں اور نیز یہ کہ قدیم سے سلسلہ مخلوق کا اس کے ساتھ چلا آیا ہے مگر کسی چیز کو اس کے مقابل پر قدامت شخصی نہیں ہاں قدامت نوعی ہے اور وہ بھی خدا کی صفت خلق کے لئے ایک لازمی امر نہیں کیونکہ جیسا کہ خلق یعنی پیدا کرنا اس کی صفات میں سے ہے ایسا ہی کبھی اور کسی زمانہ میں تجلی وحدت اور تجر داس کی صفات میں سے ہے اور کسی صفت کے لئے تعطل دائمی جائز نہیں ہاں تعطل میعادی جائز ہے۔غرض چونکہ خدا نے انسان کو پیدا کر کے اپنی ان تشیبی صفات کو اُس پر ظاہر کیا جن صفات کے ساتھ انسان بظاہر شراکت رکھتا ہے۔جیسے خالق ہونا کیونکہ انسان بھی اپنی حد تک بعض چیزوں کا خالق یعنی موجد ہے۔ایسا ہی انسان کو کریم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک کرم کی صفت بھی اپنے اندر رکھتا اور اسی طرح انسان کو رحیم بھی کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ اپنی حد تک قوتِ رحم بھی اپنے اندر رکھتا ہے اور قوتِ غضب بھی اس میں ہے۔اور ایسا ہی آنکھ کان وغیرہ سب انسان میں موجود ہیں۔پس ان تشبیہی صفات سے کسی کے دل میں شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ گویا انسان ان صفات میں خدا سے مشابہہ ہے اور خدا انسان سے مشابہہ ہے اس لئے خدا نے ان صفات کے مقابل پر قرآن شریف میں اپنی تنزیہی صفات کا بھی ذکر کر دیا یعنی ایسی صفات کا ذکر کیا جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کو اپنی ذات اور صفات میں کچھ بھی شراکت انسان کے ساتھ نہیں اور نہ انسان کو اس کے ساتھ کچھ مشارکت ہے۔نہ اُس کا خلق یعنی پیدا کرنا انسان کی خلق کی طرح ہے۔نہ اس کا رحم انسان کے رحم کی طرح ہے۔نہ اس کا غضب انسان کے غضب کی طرح ہے۔نہ اس کی محبت انسان کی محبت کی طرح ہے۔نہ وہ انسان کی طرح کسی مکان کا محتاج ہے۔