اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 133

۱۳۳ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ اے خالق ارض و سما برمن در رحمت کشان دانی تو آن درد مراکز دیگراں پنہاں کنم کے از بس لطیفی دلبرا در هر رگ و تارم درآ تا چون بخود یا بم ترا دل خوشتر از بستان کنم ۲ در سرکشی اے پاک خوجاں بر کنم در ہجر تو زانساں ہمی گریم کز و یک عالمے گریاں کنم سے خواہی بقهرم کن جدا خواهی بلطفم رونما خواهی بکش یا کن رہا کے ترک آن دامان کنم " ( براہین احمد یہ ہر چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۱۳ حاشیه در حانه حاشیه در حاشیه نمبر (۳) اے خدا اے چارہ آزار ما اے علاج گریہ ہائے ه۔ زار ما اے تو مرہم بخش جان ریش ما اے تو دلدار دل غم کیش ما د از کرم برداشتی کے ہر بار ما و از تو ہر بار و بر اشجار ما حافظ و ستاری از جود و کرم بے کسان را یاری از لطف اتم A و عاجزی را !! بنده در مانده باشد دل طپان نا گهان درمان برآری از میان ظلمتی گیرد براہ نا گہان آری برو صد مهر و ماه حسن و خلق دلبری بر تو تمام صحبتی بعد از لقائے تو حرام لے اے خالقِ ارض و سما ! مجھ پر در رحمت کھول تو میرے اس درد کو جانتا ہے جسے میں اوروں سے چھپاتا ہوں ۔ اے دلبر تو بیحد لطیف ہے میرے ہر رگ وریشہ میں داخل ہو جاتا کہ جب تجھے اپنے اندر پاؤں تو اپنا دل چمن سے بھی زیادہ خوشتر کروں۔ ے اور اے نیک صفات اگر تو انکار کرے تو تیرے فراق میں جان دے دوں گا اور اتنا روؤں گا کہ ایک عالم کو رلا دوں گا۔ ہے خواہ تو تو مجھے ناراض ہو کر جدا کر دے خواہ لطف فرما کر اپنا چہرہ دکھا دے خواہ ماریا چھوڑ میں تیرے دامن کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اے خدا ! اے ہمارے دکھوں کی دوا۔ اور اے ہماری گریہ وزاری کا علاج ۔ تو ہماری زخمی جان پر مرہم رکھنے والا ہے ۔ اور تو ہمارے غمزدہ دل کی دلداری کرنے والا ہے۔ سے تو نے اپنی مہربانی سے ہمارے سب بوجھ اٹھا لیے ہیں اور ہمارے درختوں پر میوہ اور پھل تیرے فضل سے ہے۔ تو ہی مہربانی اور عنایت سے ہمارا محافظ اور پردہ پوش ہے اور کمال مہربانی سے بے کسوں کا ہمدرد ہے۔ جب بندہ مغموم اور درماندہ ہو جاتا ہے تو تو وہیں سے اس کا علاج پیدا کر دیتا ہے۔ نے جب کسی عاجز کو رستے میں اندھیر اگھیر لیتا ہے تو تو یکدم اس کے لیے سینکڑوں سورج اور چاند پیدا کر دیتا ہے۔ الے حسن و اخلاق اور دلبری تجھ پر ختم ہیں تیری ملاقات کے بعد پھر کسی سے تعلق رکھنا حرام ہے۔