اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 122

١٢٢ جل شانہ و عزاسمہ اور فرمایا وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ) اور فرمایا وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ۔تا قرآن شریف اس قسم کی آیتوں سے بھرا پڑا ہے کہ وہ متقیوں کا متولی اور متکفل ہوتا ہے تو پھر جب انسان اسباب پر تکیہ اور توکل کرتا ہے تو گویا خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرنا ہے اور ان اسباب کو ان صفات سے حصہ دینا ہے۔اور ایک اور خدا اپنے لئے ان اسباب کا تجویز کرتا ہے۔چونکہ وہ ایک پہلو کی طرف جھکتا ہے۔اس سے شرک کی طرف گویا قدم اٹھاتا ہے۔جو لوگ حکام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور اُن سے انعام یا خطاب پاتے ہیں اُن کے دل میں ان کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے وہ ان کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو تو حید کا استیصال کرتا ہے اور انسان کو اس کے اصل مرکز سے ہٹا کر دور پھینک دیتا ہے۔پس انبیاء علیہم السلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میں تناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے۔اور مال کارتوحید پر جا ٹھہرے۔وہ انسان کو یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ ساری عزتیں سارے آرام اور حاجات براری کا متکفل خدا ہی ہے۔پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دوضر وں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔اس لئے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔رعایت اسباب کی جاوے۔اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع ونقصان اُسی کے ہاتھ میں ہے۔محسن حقیقی وہی ہے۔ذرہ ذرہ اُسی سے ہے۔کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔جب انسان اس پاک حالت کو حاصل کر لے تو وہ موحد کہلاتا ہے۔غرض ایک حالت توحید کی یہ ہے کہ انسان پتھروں یا انسانوں یا اور کسی چیز کو خدا نہ بناوے بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہر کرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایتِ اسباب سے نہ گذرے۔تیسری قسم یہ ہے کہ اپنے نفس اور وجود کے اغراض کو بھی درمیان الطلاق: ۳، ۴ الاعراف: ۱۹۷