اللہ تعالیٰ — Page 106
1+4 جل شانہ و عزاسمہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے یعنی یہ کہ وہ محض اطاعت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور اُن کی اطاعت محض فطرت روشن کا ایک خاصہ ہے۔وہ گناہ نہیں کر سکتے مگر نیکی میں ترقی بھی نہیں کر سکتے۔(۲) دوسرا قانون وہ ہے جو انسانوں کے متعلق ہے۔یعنی یہ کہ انسانوں کی فطرت میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ گنہ کر سکتے ہیں مگر نیکی میں ترقی بھی کر سکتے ہیں۔یہ دونوں فطرتی قانون غیر متبدل ہیں اور جیسا کہ فرشتہ انسان نہیں بن سکتا ہے ایسا ہی انسان بھی فرشتہ نہیں ہو سکتا ہے یہ دونوں قانون بدل نہیں سکتے ازلی اور اٹل ہیں۔اس لئے آسمان کا قانون زمین پر نہیں آسکتا اور نہ زمین کا قانون فرشتوں کے متعلق ہوسکتا ہے۔انسانی خطا کاریاں اگر تو بہ کے ساتھ ختم ہوں تو وہ انسان کو فرشتوں سے بہت اچھا بنا سکتی ہیں۔کیونکہ فرشتوں میں ترقی کا مادہ نہیں انسان کے گنہ تو بہ سے بخشے جاتے ہیں۔اور حکمت الہی نے بعض افراد میں سلسلہ خطا کاریوں کا باقی رکھا ہے تا وہ گناہ کر کے اپنی کمزوری پر اطلاع پاویں اور پھر تو بہ کر کے بخشے جاویں۔یہی قانون ہے جو انسان کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اسی کو انسانوں کی فطرت چاہتی ہے۔سہو و نسیان انسانی فطرت کا خاصہ ہے فرشتہ کا خاصہ نہیں پھر وہ قانون جو فرشتوں کے متعلق ہے انسانوں میں کیونکر نافذ ہو سکے۔یہ خطا کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف کمزوری منسوب کی جاوے۔صرف قانون کے نتائج ہیں جو زمین پر جاری ہو رہے ہیں۔نعوذ باللہ کیا خدا ایسا کمزور ہے جس کی بادشاہت اور قدرت اور جلال صرف آسمان تک ہی محدود ہے یا زمین کا کوئی اور خدا ہے جو زمین پر مخالفانہ قبضہ رکھتا ہے۔اور عیسائیوں کو اس بات پر زور دینا اچھا نہیں کہ صرف آسمان میں ہی خدا کی بادشاہت ہے جو ابھی زمین پر نہیں آئی کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ آسمان کچھ چیز نہیں اب ظاہر ہے کہ جبکہ آسمان کچھ چیز نہیں جس پر خدا کی بادشاہت ہو اور زمین پر ابھی خدا کی بادشاہت آئی نہیں تو گویا خدا کی بادشاہت کسی جگہ بھی نہیں۔ماسوا اس کے ہم خدا کی زمینی بادشاہت کو بچشم خود دیکھ رہے ہیں۔اُس کے قانون کے موافق ہماری عمریں ختم ہو جاتی ہیں اور ہماری