اللہ تعالیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 142

اللہ تعالیٰ — Page 102

۱۰۲ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ مکوڑے بنا دیتا ہے مگر قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس حد تک نہیں پہنچایا بلکہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ خدا با وجو د سزا دینے کے پھر بھی انسان کو انسان ہی رکھتا ہے کسی اور جون میں نہیں ڈالتا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن شریف کی رو سے خدا تعالیٰ کی محبت اور رحمت اس کے غضب سے بڑھ کر ہے۔ اور وید کی رو سے گنہگاروں کی سزا نا پیدا کنار ہے اور پرمیشر میں غضب ہی غضب ہے رحمت کا نام و نشان نہیں مگر قرآن شریف سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ انجام کار دوزخیوں پر ایسا زمانہ آوے گا کہ خدا سب پر رحم فرمائے گا۔ (چشمہ معرفت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۶ تا ۵۰) Π انجیل میں ہے کہ تم اس طرح دعا کرو کہ اے ہمارے باپ کہ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو۔ تیری بادشاہت آوے تیری مرضی جیسی آسمان پر ہے زمین پر آوے۔ ہماری روزانہ روٹی آج ہمیں بخش اور جس طرح ہم اپنے قرضداروں کو بخشتے ہیں تو اپنے قرض کو ہمیں بخش دے اور ہمیں آزمائش میں نہ ڈال بلکہ برائی سے بچا کیونکہ بادشاہت اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں ۔ مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ نہیں کہ زمین تقدیس سے خالی ہے بلکہ زمین پر بھی خدا کی تقدیس ہو رہی ہے نہ صرف آسمان پر جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَإِن مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ یعنی ذره ذره ز ا ذرہ ذرہ زمین کا اور آسمان کا خدا کی تحمید اور تقدیس کر رہا ہے اور جو کچھ اُن میں ہے وہ تحمید اور تقدیس میں مشغول ہے، پہاڑ اس کے ذکر میں مشغول ہیں ، دریا اس کے ذکر میں مشغول ہیں ۔ درخت اس کے ذکر میں مشغول ہیں ۔ اور بہت سے راستباز اس کے ذکر میں مشغول ہیں اور جو شخص دل اور زبان کے ساتھ اس کے ذکر میں مشغول نہیں اور خدا کے آگے فروتنی نہیں کرتا اس سے طرح طرح کے شکنجوں اور عذابوں سے قضا و قدر الہی فروتنی کرا رہی ہے اور جو کچھ فرشتوں کے بارے میں خدا خدا کی کتاب میں لکھا ہے کہ وہ نہایت بنی اسرائیل : ۴۵ الجمعة : ۲