اللہ تعالیٰ — Page 100
١٠٠ اللہ تعالیٰ جل شانہ و عزاسمہ جاتی ہیں اور وہ کشش طبعی ہوتی ہے۔ جب سے کہ صانع مطلق نے عالم اجسام کو ذرات سے ترکیب دی ہے ہر ایک ذرے میں وہ کشش رکھی ہے اور ہر ایک ذرہ روحانی حسن کا عاشق صادق ہے ۔ اور ایسا ہی ہر ایک سعید روح بھی کیونکہ وہ حسن تجلی گاہ حق ہے۔ وہی حسن تھا جس کے لئے فرمایا گیا اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ اور اب بھی بہتیرے ابلیس ہیں جو اس حسن کو شناخت نہیں کرتے مگر وہ حسن بڑے بڑے کام دکھلاتا رہا ہے۔ نوح میں وہی حسن تھا جس کی پاس خاطر حضرت عزت جل شانہ کو منظور ہوئی اور تمام منکروں کو پانی کے عذاب سے ہلاک کیا گیا۔ پھر اس کے بعد موسی بھی وہی حسن روحانی لے کر آیا جس نے چند روز تکلیفیں اٹھا کر آخر فرعون کا بیڑا غرق کیا۔ پھر سب کے بعد سید الأنبياء و خير الورى مولا نا وسید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عظیم الشان روحانی حسن لے کر آئے جس کی تعریف میں یہی آیت کریمہ کافی ہے۔ دَنَا فَتَدَلی ۔ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ او ادنی ۔ یعنی وہ نبی جناب الہی سے بہت نزد یک چلا گیا اور پھر مخلوق کی طرف جھکا اور اس طرح پر دونوں حقوق کو جو حق اللہ اور حق العباد ہے ادا کر دیا اور دونوں قسم کا حسن روحانی ظاہر کیا۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۲۱۹ تا ۲۲۱) اُسی مضمون میں جو جلسہ میں پڑھا گیا مضمون کے پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ پرمیشر غضب اور کینہ اور بغض اور حسد سے الگ ہے۔ شاید اس تقریر سے اس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کی نسبت غضب کا لفظ آیا ہے تو گویا وہ اپنے اس مضمون میں قرآن شریف کے مقابل پر وید کو اس تعلیم سے مبرا کرتا ہے کہ خدا غضب بھی کیا کرتا ہے مگر یہ اس کی سراسر غلطی ہے۔ یادر ہے کہ قرآن شریف میں کسی بے جا اور ظالمانہ غضب تا ۱۰۰۹ البقرة:۳۵ [ النجم :