اللہ تعالیٰ — Page 95
۹۵ جل شانہ و عزاسمہ کی طرف کھینچا کہ وہ بالکل اپنی ہستی سے کھوئے گئے تو اس صورت میں یہ تجویز کرنا کہ خدا ان کا ہم کلام ہونا نہیں چاہتا اس قول کے مساوی ہے کہ گویا اُن کا تمام عشق اور محبت ہی عبث ہے اور اُن کے سارے جوش یک طرفہ خیالات ہیں۔لیکن خیال کرنا چاہئے کہ ایسا خیال کس قدر بے ہودہ ہے۔کیا جس نے انسان کو اپنے تقرب کی استعداد بخشی اور اپنی محبت اور عشق کے جذبات سے بے قرار کر دیا اس کے کلام کے فیضان سے اس کا طالب محروم رہ سکتا ہے؟ کیا یہ صحیح ہے کہ خدا کا عشق اور خدا کی محبت اور خدا کے لئے بے خود اور محو ہو جانا یہ سب ممکن اور جائز ہے اور خدا کی شان میں کچھ حارج نہیں۔مگر اپنے محب صادق کے دل پر خدا کا الہام نازل ہونا غیر ممکن اور ناجائز ہے اور خدا کی شان میں حارج ہے۔انسان کا خدا کی محبت کے بے انتہا دریا میں ڈو بنا اور پھر کسی مقام میں بس نہ کرنا اس بات پر شہادت قاطع ہے کہ اس کی عجیب الخلقت روح خدا کی معرفت کے لئے بنائی گئی ہے۔پس جو چیز خدا کی معرفت کے لئے بنائی گئی ہے اگر اس کو وسیلہ معرفت کامل کا جو الہام ہے عطا نہ ہو تو یہ کہنا پڑے گا کہ خدا نے اس کو اپنی معرفت کے لئے نہیں بنایا حالانکہ اس بات سے برہمو سماج والوں کو بھی انکار نہیں کہ انسان سلیم الفطرت کی روح خدا کی معرفت کی بھوکی اور پیاسی ہے۔بس اب ان کو آپ ہی سمجھنا چاہئے کہ جس حالت میں انسان صحیح الفطرت خود فطر ما خدا کی معرفت کا طالب ہے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ معرفت الہی کا ذریعہ کامل بجز الہام الہی اور کوئی دوسرا امر نہیں تو اس صورت میں اگر وہ معرفت کامل کا ذریعہ غیر ممکن الحصول بلکہ اس کا تلاش کرنا دُور از ادب ہے تو خدا کی حکمت پر بڑا اعتراض ہوگا کہ اُس نے انسان کو اپنی معرفت کے لئے جوش تو دیا پر ذریعہ معرفت عطا نہ کیا گویا جس قدر بھوک تھی اُس قدر روٹی دینا نہ چاہا۔اور جس قدر پیاس لگا دی اس قدر پانی دینا منظور نہ ہوا۔مگر دانشمند لوگ اس بات کو خوب سمجھتے ہیں کہ ایسا خیال سراسر خدا کی عظیم الشان رحمتوں کی نا قدر شناسی ہے۔جس حکیم مطلق نے انسان کی ساری سعادت اس میں رکھی ہے کہ وہ اسی دنیا میں الوہیت کی