اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 59
۵۹ ان معنوں پر دلالت کرتی ہے کہ پیدا کرنے کے بعد اس کی طاقتوں کو تدریجی طور پر بڑھاتے چلے جانا اور کمال تک پہنچانا۔ظاہر ہے کہ پہلی صفات اس مضمون کو ادا نہیں کرتیں۔انسی طرح اور کئی صفات ہیں جو بظاہر مکرر نظر آتی ہیں مگر در حقیقت ان کے اندر باریک فرق ہے اور اس فرق کے سمجھ لینے کے بعد وہ روحانی نظام جس کو قرآن کریم پیش کرتا ہے نہایت ہی شیاندا را در خوبصورت طور پر انسان کی آنکھوں کے آگے آجاتا ہے۔اللہ کی تشبیہی صفا سے متعلق مغالطہ دنیا کا ایک اکثر طبقہ خداتعالی کی تشبیہی صفات کو نہ سمجھنے کے باعث ہمیشہ ٹھوکریں کھاتا رہا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی عارفانہ تحقیق اس سلسلہ میں حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔فرماتے ہیں :- اس میں کلام کی جگہ نہیں کہ جو کچھ اجرام فلکی اور عناصر میں جسمانی اور فانی طور پر صفات پائی جاتی ہیں، وہ روحانی اور ابدی طور پر خدا تعالیٰ میں موجود ہیں۔اور خدا تعالٰی نے یہ بھی ہم پر کھول دیا ہے کہ سورج وغیرہ بذات خود کچھ چیز نہیں ہیں۔یہ اسی کی طاقت زبر دست ہے ، جو پردہ میں ہر ایک کام کر رہی ہے۔وہی ہے جو چاند کو پردہ پوشش اپنی ذات کا بنا کہ اندھیری ے: دیباچہ تفسیر القرآن اگر دو مام - ۴۷۹ :